مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 63

63 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم خود تو ہر مومن کو یہی چاہیے کہ دوسرے کا خیال رکھے اور اپنے بھائی کو بیٹھنے کے لیے جگہ دے لیکن کسی دوسرے آنے والے کا حق نہیں بنتا کہ زبر دستی کسی کو اٹھائے کہ یہ جگہ میرے لیے خالی کرو۔یہ بھی مجلس کے آداب کے خلاف ہے اور اس بیٹھنے والے کے حق کے خلاف ہے سوائے اس کے کہ جہاں اجازت ہے، ایسی مجالس میں جہاں مجبوری ہو اٹھانے کے لیے کہا جائے۔وہ تو قرآن شریف میں بھی حکم آیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اگر مجلسوں میں تمہیں کہا جائے کہ کشادہ ہو کر بیٹھو یعنی دوسروں کو جگہ دو تو جلد جگہ کشادہ کر دوتا دوسرے بیٹھیں اور کہا جائے کہ تم اٹھ جاؤ تو بغیر چون و چرا کے اٹھ جاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰ صفحه ۳۳۶) تو جہاں قرآن کریم میں یہ کشادگی کا حکم ہے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ اگر مجلس سے اٹھایا جائے اور انتظامیہ اگر کہے کسی وجہ سے کہ یہاں سے بعض لوگ چلے جائیں ، اٹھ جائیں، تو اٹھ جایا کرو۔کیونکہ بعض مجالس مخصوص ہوتی ہیں ان میں ہر ایک کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔تو یہاں بھی ہر احمدی کو کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔بعض دفعہ شکایات آجاتی ہیں کہ فلاں عہدیدار نے فلاں مجلس میں مجھے اٹھا دیا یا میرے فلاں بزرگ کو اٹھا دیا۔تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکوہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ نظام ہے اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔مومن کا شیوہ نہیں ہے کہ ایسی باتوں کا شکوہ کرے۔پھر بعض مجالس ایسی ہیں مثلاً انتخاب وغیرہ میں بھی بعض لوگ حسب قواعد نہیں بیٹھ سکتے ، ان میں بعض کمیاں ہوتی ہیں تو اس پر شکوے بھی نہیں کرنے چاہییں۔بڑی خاموشی سے چلے جانا چاہیے۔یا پھر جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا ادا کرنا چاہیے۔وہ قواعد جن کی پابندی ضروری ہے اور جماعت نے مقرر کئے ہیں وہ کرنے چاہیں۔اگر قواعد پر عمل نہیں کیا پھر شکوے بھی نہ کریں۔یہ بھی اس مجلس کا حق ہے کہ اگر اٹھایا جائے تو اٹھ جائیں۔مجلس میں جگہ دینے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر خیال فرماتے تھے۔اس کا اظہار ایک روایت سے ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا ، حضور علیہ السلام اسے جگہ دینے کے لیے اپنی جگہ سے کچھ ہٹ گئے۔وہ شخص کہنے لگا حضور جگہ بہت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کا