مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 30
30 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ہے کہ ایک رابطہ کیا یا سال کے آخر میں دو مہینے اپنے ٹارگٹ پورے کرنے کے لیے وقف کر دیئے۔بلکہ سارا سال اس کام پر لگے رہنا چاہیے اور اس طرف توجہ دیتے رہنا چاہیے۔اور جس آدمی کو پکڑیں اس کا پتہ لگ جاتا ہے کس مزاج کا ہے۔جو بھی آپ کے رابطے ہوتے ہیں پھر مسلسل اس سے رابطہ ہو۔آخر ایک وقت ایسا آئے گا یا تو آپ کو اس کے بارے میں پتہ لگ جائے گا کہ اس کا دل سخت ہے اور وہ ایسی زمین ہی نہیں جس پہ کوئی چھینٹا بارش کا اثر کر سکے، کوئی نیکی کا اثر اس پر ہو، تو اس کو تو آپ چھوڑیں۔لیکن بہت سارے ایسے ہیں جو آپ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس لیے اس عمل کو مسلسل جاری رہنا چاہیے اور سو نہیں جانا چاہیے کہ جی کام سال کے آخر میں کر لیں گے۔عمل صالح کی اہمیت پھر جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں ان میں ایک بہت بڑی خوبی جس کی ضرورت ہے اور جس کے بغیر نہ جوش کام آ سکتا ہے نہ ( دعوت الی اللہ ) کے لیے کسی قسم کا کوئی شوق کام آ سکتا ہے، نہ ( دعوت الی اللہ ) کے طریقوں میں حکمت، دانائی اور علم کام آ سکتا ہے وہ جو سب سے ضروری چیز ہے وہ ہے عمل۔اس لیے میں نے جو پہلی آیت تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کی تعریف کر کے یہ بھی فرمایا کہ صرف وہ نیکی کی طرف بلاتے ہی نہیں ہیں بلکہ نیک اعمال خود بھی بجالانے والے ہیں۔ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہے۔یہ نہیں کہ وہ خود کچھ کر رہے ہوں اور لوگوں کو کچھ کہہ رہے ہوں۔اور جب ان کا قول و فعل ایک جیسا ہوگا تو تبھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ بات کہنے کے بھی حقدار ہوں گے کہ ہم کامل فرمانبرداروں میں سے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تو غیب کا علم جانتا ہے۔وہ تو ہمارے سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کا خوب علم رکھتا ہے۔ہر بات اس کے علم میں ہے۔اگر ہمارے قول وفعل میں تضاد ہوگا تو وہ فرمائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو تم کامل فرمانبرداروں میں نہیں ہو کیونکہ تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے۔کہتے کچھ ہو کرتے کچھ ہو۔اس لیے ایمان لانے والوں کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی کہ یايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَالَا تَفْعَلُوْنَ (الصف: 3-2 )۔کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم کیوں وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں۔اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔تو اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا نہیں