مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 24
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 24 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی کاروبار میں بھی بے انتہاء برکت ڈالتا ہے۔اور بعض بتاتے ہیں کہ ان کو یہ فائدہ ہے کہ بے انتہا برکتیں ہوتی ہیں کہ ان کو خود بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ روپیہ آ کہاں سے رہا ہے، یہ کمائی آ کہاں سے رہی ہے۔بہر حال یہ تو اللہ تعالیٰ کے دینے کے طریقے ہیں انسان بھلا کہاں اللہ تعالیٰ کی دین تک پہنچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے تم میری راہ میں خرچ کرو تو میں تمہیں سات سو گنا تک بڑھ کر دیتا ہوں بلکہ فرمایا کہ ﴿ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يشَاءُ کہ اللہ جسے چاہے جتنا چاہے بڑھا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ میں سات سو گنا سے بھی زیادہ بڑھا کر دینے کی طاقت ہے۔اللہ تعالیٰ تو پابند نہیں ہے کہ صرف سات سو گنا تک ہی بڑھائے۔اس کے تو خزانے محدود نہیں ہیں۔اس لیے ہمیشہ اپنے چندوں کے حساب کو صاف رکھنا چاہیے اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کس طرح نازل ہوتے ہیں، کس طرح برستے ہیں۔بلا وجہ بقایا دار نہ بنیں اب بعض لوگوں میں یہ غلط تصور ہے کہ کیونکہ قواعد میں یہ شرط ہے کہ کسی بھی عہدے کے لیے یا ویسے عام طور پر پوچھا جاتا ہے تو تب بھی کہ چھ مہینے سے زیادہ کا بقایا دار نہ ہو اس لیے ضروری ہے کہ چھ مہینے کے بعد ہی چندہ ادا کرنا ہے، بلا وجہ چھ چھ مہینے تک چندہ ادا نہیں کرتے تو یہ چھ مہینے کی جو شرط ہے صرف زمینداروں کے لیے ہے جن کی آمد کیونکہ زمیندارے پر ہے اور عموماً چھ ماہ کے بعد ہی زمیندار کو آمد ہوتی ہے۔اس لیے یہ رعایت ان سے کی جاتی ہے۔ماہوار کمانے والے ہوں ملازم پیشہ یا کاروباری لوگ، ان کو تو ماہوار ادا ئیگی کرنی چاہیے تاکہ بعد میں پھر بوجھ نہ رہے جیسا کہ میں نے کہا، بلاوجہ کی سیکی کا بھی احساس رہتا ہے۔اور سب سے بڑا چندہ ادا کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے رہتے ہیں۔تو بہر حال اگر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پوری شرح یعنی 1/16 سے چندہ عام ادا نہیں کر سکتے تو اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ ان کے لیے ہے کہ وہ کم شرح سے بھی چندہ دے سکتے ہیں لیکن بہر حال غلط بیانی نہیں ہونی چاہیے اور بقایا دار نہیں ہونا چاہیے۔عہد یداران افراد جماعت کے رازوں کی حفاظت کریں اور یہاں میں جو جماعتی عہدیداران ہیں ، صدر جماعت یا سیکرٹریان مال ، ان کو بھی یہ کہتا ہوں کہ ہر فرد جماعت کی کوئی بھی بات ہر عہدیدار کے پاس ایک راز ہے اور امانت ہے اس لیے اس کو با ہر نکال کر امانت میں