مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 23
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 23 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی کمی کر کے اپنے اخراجات کو ، ایسے اخراجات کو جن کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے جو ملتوی کئے جا سکتے ہوں ان کو ٹالا جا سکتا ہو ان کو ٹال کر اپنے چندے ضرور ادا کرنے چاہئیں۔موصیان کو خصوصی نصیحت خاص طور پر موصی صاحبان کے لیے میں یہاں کہتا ہوں ، ان کو تو خاص طور پر اس بارے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے۔اس انتظار میں نہ بیٹھے رہیں کہ دفتر ہمارا حساب بھیجے گا یا شعبہ مال یاد کر وائے گا تو پھر ہم نے چندہ ادا کرنا ہے۔کیونکہ پھر یہ بڑھتے بڑھتے اس قدر ہو جاتا ہے کہ پھر دینے میں مشکل پیش آتی ہے۔چندے کی ادائیگی میں مشکل پیش آتی ہے۔پھر اتنی طاقت ہی نہیں رہتی کہ یکمشت چندہ ادا کر سکیں۔اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ کچھ رعایت کی جائے اور رعایت کی قسطیں بھی اگر مقرر کی جائیں تو وہ چھ ماہ سے زیادہ کی تو نہیں ہوسکتیں۔اس طرح خاص طور پر موصیان کی وصیت پر زد پڑتی ہے تو پھر ظاہر ہے ان کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور پھر اس تکلیف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔تو اس لیے پہلے ہی چاہیے کہ سوچ سمجھ کر اپنے حسابات صاف رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔اور جب بھی آمد ہو اس آمد میں جو حصہ بھی ہے نکالیں ، موصی صاحبان بھی اور دوسرے کمانے والے بھی جنہوں نے چندہ عام دینا ہے، 1/16 حصہ، اپنا چندہ اپنی آمد میں سے ساتھ کے ساتھ ادا کرتے رہا کریں۔۔۔کاروباری لوگوں کے چندہ دینے کا طریق آج کل بھی کئی لوگوں کا یہ طریق ہے، کئی کاروباری لوگوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کی آمد یا ماہوار آمد میں سے جو بھی ہو چندہ نکال کر الگ رکھ دیتے ہیں یا جب بھی وہ اپنے آمد و خرچ کا حساب کرتے ہیں اور اپنے منافع کو الگ کرتے ہیں تو ساتھ ہی وہ چندہ بھی علیحدہ کر دیتے ہیں۔بعض ماہوار خرچ کے لیے اپنے کاروبار سے رقم لیتے ہیں اس میں سے چندہ ادا کر دیتے ہیں اور سال کے آخر میں جب آخری فائنل حساب کر رہے ہوتے ہیں تو پھر اگر کوئی بچت ہو تو اس میں سے وہ چندہ ادا کر دیتے ہیں۔تو اس طرح ایک تو ان پر زائد بوجھ نہیں پڑتا کہ سال کے آخر میں چندہ یا چند مہینوں بعد یہ چندہ کس طرح ادا کیا جائے۔انسان پر ایک بوجھ ہوتا ہے۔کیونکہ پھر اس صورت میں بڑی رقم نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔دوسرے بقایا دار ہونے کی فکر نہیں رہتی کہ بقایادار ہوں گے تو جماعت میں بھی اور مرکز میں بھی سبکی ہوگی۔اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے