مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 12
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 12 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی اس لیے اب تو جماعت ختم ہوئی کہ ہوئی۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو ان سخت حالات اور خوف کی حالت سے ایسا نکالا کہ دنیا نے دیکھا کہ جو دشمن تھے وہ تو تباہ و برباد ہو گئے ، وہ تو ذلیل وخوار ہو گئے لیکن جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی شان کے ساتھ پھر آگے قدم بڑھاتی ہوئی چلتی چلی گئی۔خلافت ثانیہ میں ہونے والی ترقیات غرض کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کی خلافت کا دور 52 سال رہا اور ہر روز ایک نئی ترقی لے کر آتا تھا۔کئی زبانوں میں آپ کے زمانے میں تراجم قرآن کریم ہوئے۔بیرونی دنیا میں مشن قائم ہوئے افریقہ میں ، یورپ میں مشنز قائم ہوئے اور بڑی ذاتی دلچسپی لے کر ذاتی ہدایات دے کر۔اس زمانے میں دفاتر کا بھی نظام اتنا نہیں تھا۔خود ( مربیان ) کو براہ راست ہدایات دے دے کر اس نظام کو آگے بڑھایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہندو پاکستان میں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی اور خاص طور پر افریقہ میں لاکھوں کی تعداد میں سعید روحوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوئیں۔پھر دیکھیں آپ نے کس طرح انتظامی ڈھانچے بنائے۔صدر انجمن احمدیہ کا قیام تو پہلے ہی تھا اس میں تبدیلیاں کیں ، رد و بدل کی۔اس کو اس طرح ڈھالا کہ انجمن اپنے آپ کو صرف انجمن ہی سمجھے اور کبھی خلافت کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔پھر ذیلی تنظیموں کا قیام ہے، انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ آپ کی دور رس نظر نے دیکھ لیا کہ اگر میں اس طرح جماعت کی تربیت کروں گا کہ ہر عمر کے لوگوں کو ان کی ذمہ واری کا احساس دلا دوں اور وہ یہ سمجھنے لگیں کہ اب ہم ہی ہیں جنہوں نے جماعت کو سنبھالنا ہے اور ہر فتنے سے بچانا ہے۔اپنے اندر نیک تبدیلی اور پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے۔اگر یہ احساس پیدا ہو جائے قوم کے لوگوں میں تو پھر اس قوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔تو دیکھ لیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے ہر ملک میں یہ ذیلی تنظیمیں قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے فعال ہیں اور آج جرمنی کی خدام الاحمد یہ بھی اسی سلسلے میں اپنا اجتماع کر رہی ہے۔تو یہ بھی ایک بہت بڑی انتظامی بات تھی جو حضرت مصلح موعود ( نور اللہ مرقدہ) نے جماعت میں جاری فرمائی۔پھر تحریک جدید کا قیام ہے، جب دشمن یہ کہ رہا تھا کہ میں قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا