مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 11
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 11 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی گئے۔اور وقتی طور پر ان میں کبھی کبھی ابل آتا رہتا تھا اور مختلف صورتوں میں کہیں نہ کہیں جا کرفتہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے لیکن انجام کا رسوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں ملا۔پھر حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی وفات ہوئی۔خلافت ثانیہ میں اٹھنے والے فتنوں کا انجام اس کے بعد پھر انہیں لوگوں نے سراٹھایا اور ایک فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی ، جماعت میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور بہت سارے پڑھے لکھے لوگوں کو اپنی طرف مائل بھی کرلیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر خلافت کا انتخاب ہوا تو حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد کوہی جماعت خلیفہ منتخب کرے گی۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ان شور مچانے والوں کو ، انجمن کے عمائدین کو یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے کوئی شوق نہیں خلیفہ بننے کا تم جس کے ہاتھ پر کہتے ہو میں بیعت کرنے کے لیے تیار ہوں۔جماعت جس کو چنے گی میں اسی کو خلیفہ مان لوں گا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ان لوگوں کو پتہ تھا کہ اگر انتخاب خلافت ہوا تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی خلیفہ منتخب ہوں گے۔اس لیے وہ اس طرف نہیں آتے تھے اور یہی کہتے رہے کہ فی الحال خلیفہ کا انتخاب نہ کروایا جائے۔ایک، دو، چار دن کی بات نہیں ، چند مہینوں کے لیے اس کو آگے ٹال دیا جائے ، آگے کر دیا جائے اور یہ بات کسی طرح بھی جماعت کو قابل قبول نہ تھی۔جماعت تو ایک ہاتھ پراکٹھا ہونا چاہتی تھی۔آخر جماعت نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو خلیفہ منتخب کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اور اس وقت بھی مخالفین کا یہ خیال تھا کہ جماعت کے کیونکہ پڑھے لکھے لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور خزانہ ہمارے پاس ہے اس لیے چند دنوں بعد ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی رحمت کا ہاتھ رکھا اور خوف کی حالت کو پھر امن میں بدل دیا اور دشمنوں کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی ساری کوششیں نا کام ہو گئیں۔پھر خلافت ثانیہ میں 1934ء میں ایک فتنہ اٹھا اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دبا دیا اور جماعت کو مخالفین کوئی گزند نہیں پہنچا سکے۔ان کا دعویٰ تھا کہ ہم پتہ نہیں کیا کر دیں گے۔پھر 1953ء میں فسادات اٹھے۔جب پاکستان بن گیا اس وقت دشمن کا خیال تھا کہ اب ہماری حکومت ہے یہاں انگریزوں کی حکومت نہیں رہی اب یہاں انصاف تو ہم نے ہی دینا ہے اور ان لوگوں کو انصاف کا پتہ ہی کچھ نہیں تھا