مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 2

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 2 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی تو ضروری چیز ہے کہ کوئی بھی بچہ کوئی احمدی بچہ، وقف نو کا تو بہت اونچا معیار ہے ان سے Expect(امید) نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبھی جھوٹ بولیں گے، کسی بھی احمدی بچے کو کبھی بھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا۔تو اس لیے آپ لوگ ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ اپنے ساتھیوں سے کھیل رہے ہوں یا کوئی غلطی کرتے ہیں اور امی ابا آپ کے پوچھیں کہ فلاں کام تم نے تو نہیں کیا تو کبھی سزا کے ڈر سے بھی جھوٹ نہیں بولنا اور کبھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا۔ایک دوسرے سے لڑائی نہ کریں پھر ایک بات میں نے کہی تھی گذشتہ سال بھی دوبارہ یاد کرا دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے لڑائی نہیں کرنی۔کبھی بھی۔کھیل کھیل میں بعض دفعہ لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔آپ لوگ جواب سات سال سے بڑی عمر کے بچے ہیں ان کو کافی ہوش آگئی ہے یا درکھیں کہ لڑنا نہیں ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ کھیل میں اور اگر کوئی آپ کو کچھ مار دیتا ہے یا شرارت کر دیتا ہے تو معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔ماں باپ کا کہنا مانیں تیسری یا جو بھی نمبر ہے اگلا کہ ماں باپ کا ، امی ابا کا آپ نے کہنا مانا ہے۔جو وہ کہیں اس کے مطابق کرنا ہے۔ضد نہیں کبھی کرنی۔نہ کھانے پینے کے معاملے میں۔نہ کپڑے پہننے کے بارے میں۔جس طرح وہ کہیں اسی طرح ان کی بات ماننی ہے نماز میں اپنے لیے دعا کریں اور پھر ایک چیز یا درکھیں کہ آپ لوگ وہ جن سے میں نے ہاتھ کھڑے کروائے ہیں دس سال کی عمر کے کافی بچے ہو چکے ہیں۔چند ایک چودہ پندرہ سال، پھر سولہ سال کی عمر کے بھی ہیں ، اب مستقل یہ عادت ڈال لیں کہ نماز میں اپنے لیے خاص طور پر دعا کرنی ہے۔ہر نماز میں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح وقف نو بنائے۔آپ کے ماں باپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کہ جو بھی بچہ اللہ میاں مجھے دے گالڑ کی ہو یا لڑ کا۔میں اسے تیری راہ میں وقف کروں گا یا کروں گی۔انہوں نے وقف کیا آپ کو۔اب آپ کا کام ہے جو نیک سوچ ان کی تھی۔جو وعدہ اللہ تعالیٰ سے انہوں نے کیا، اس کو آپ نے پورا کرنا ہے۔ٹھیک۔اور اس کے لیے دعا کرنی ہے خاص طور پر۔کیونکہ دعا کی عادت اب دس سال کی عمر میں آپ کو پڑ جانی چاہیے، نماز میں پڑھنے کی اور خاص