مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 149
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 149 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی وقت عہد لیا کہ تنگی ہو یا آسائش ، خوشی ہو یا نا خوشی ، ہر حال میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے۔نیز ہم ان لوگوں سے جو کام کے اہل اور صاحب اقتدار ہیں ، مقابلہ نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ ہم کھلا کھلا کفر دیکھیں اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی برہان آ جائے کہ حکام غلطی پر ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور حق بات کہیں گے۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء)۔تو مطلب یہی ہے کہ اطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ حق بات کہنی ہے۔سوائے شریعت کے واضح حکم کی کوئی خلاف ورزی کر رہا ہو تو پھر اطاعت نہ کریں جس طرح حکومت پاکستان نے احمدیوں پر پابندی لگا دی ہے کہ نمازیں نہیں پڑھنیں۔تو یہ تو ہمارا ایک حق ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرنا۔اور شریعت کے قانون پر تو کوئی قانون بالا نہیں ہے اس لیے احمدی نمازیں پڑھتا ہے۔اس کے علاوہ ہر ملکی قانون کی ہر طرح پابندی کی جاتی ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو۔یہ جو دو الفاظ ہیں ان کو اپنا شعار بناؤ، یہی تمہارا طریق ہونا چاہیے۔خواہ ایک حبشی غلام کو ہی کیوں نہ تمہارا افسر مقرر کر دیا جائے۔کسی کو حقیر اور کمزور سمجھتے ہوا گر وہ بھی تمہارا امام ہے تو اطاعت کرو۔( صحیح بخاری کتاب الاحكام باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنے امیر میں کوئی بظاہر نا گوار یا کوئی بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے اور کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق تو ڑ لیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة الى الكفر)۔تو صبر سے مراد یہ ہے کہ امیر کی بری بات دیکھ کے یہ نہیں کہ پورے نظام کے خلاف ہو جاؤ۔نظام سے وابستہ رہو اور وہ بات آگے پہنچا دو اور اس کے بعد صبر کرو۔جماعت سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہیے۔اگر تمہارا جماعت سے تعلق ٹوٹتا ہے تو یہ جہالت کی موت ہے۔تو جن لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم برداشت نہیں کر سکتے اس لیے ہم ایک طرف ہو گئے نمازوں