مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 148

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 148 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی دکھا ئیں۔یہ نمونے جب آپ دکھا رہے ہوں گے تو اپنی نسلوں کو بھی بچارہے ہوں گے۔انہی نمونوں کو دیکھتے ہوئے آپ کی اگلی نسل نے بھی چلنا ہے اور انہیں نمونوں پر جونسلیں قائم ہوں گی وہ آئندہ جب عہد یدار بنیں گی تو وہ وہی نمونے دکھا رہی ہوں گی جو اعلیٰ اخلاق کے نمونے ہوتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔جس نے حاکم وقت کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی ، اور جو حاکم وقت کا نافرمان ہے وہ میرا نا فرمان ہے۔(صحیح مسلم كتاب الامارة - باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية وتحريمها في المعصیة)۔امیر کی اور نظام جماعت کی اطاعت کے بارے میں یہ حکم ہے۔لوگ تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم خلیفہ کی اطاعت سے باہر نہیں ہیں مکمل طور پر اطاعت میں ہیں ، ہر حکم ماننے کو تیار ہیں۔لیکن فلاں عہد یدار یا فلاں امیر میں فلاں فلاں نقص ہے اس کی اطاعت ہم نہیں کر سکتے۔تو خلیفہ وقت کی اطاعت اسی صورت میں ہے جب نظام کے ہر عہدیدار کی اطاعت ہے۔اور تب ہی اللہ کے رسول کی اور اللہ کی اطاعت ہے۔ہر حالت میں اطاعت کریں پھر ایک روایت میں آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنگدستی اور خوشحالی ، خوشی اور نا خوشی حق تلفی اور ترجیجی سلوک غرض ہر حالت میں تیرے لیے حاکم وقت کے حکم کوسننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ) فرمایا کہ جو حالات بھی ہوں تمہاری حق تلفی بھی ہو رہی ہو، تمہارے سے زیادتی بھی ہو رہی ہو تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہ بھی ہو اور دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک ہو رہا ہو ، تب بھی تم نے کہنا ماننا ہے۔سامنے لڑائی جھگڑے کے لیے کھڑے نہیں ہو جانا۔کسی بات سے انکار نہیں کر دینا۔بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔یہ بہر حال نظام جماعت میں بھی حق ہے کہ اگر کوئی غلط بات دیکھیں تو خلیفہ وقت کو اطلاع کر دیں اور پھر خاموش ہو جائیں، پیچھے نہیں پڑ جانا کہ کیا ہوا ، کیا نہیں ہوا۔اطلاع کر دی ، بس ٹھیک ہے۔حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے