مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 107
107 مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید واللہ تعالی ہیں۔عیب لگا نا ، لوگوں کا مذاق اڑانا، ہنسی ٹھٹھا اڑانا ، انکو حقیر سمجھنا ، اپنے خاندان کی بڑائی اور امارت پر فخر کرنا ، حسد کرنا۔یہ بھی سب چیزیں جو ہیں یہ بھی بد دیانتی ہے اور اس میں بعض دفعہ بہت بڑھ جاتے ہیں بددیانتی میں۔اس لیے پھر یہ ہے کہ کسی کی بات کو توڑ مروڑ کر صحیح صورت میں نہ لوگوں تک پہنچانا یا پہنچانا تو توڑ مروڑ کر پہنچانا یا صیح صورت میں نہ پہنچانا۔تو یہ ساری چیز میں بددیانتی کے زمرے میں آتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ خیال رہے کہ ہمارے نوجوانوں میں عمومی طور پر دیانت پیدا ہونی چاہیے، قومی دیانت پیدا ہونی چاہیے۔یہ ایک بہت بڑی بنیادی چیز ہے، بہت بڑا اصل ہے جس سے ہم جلد از جلد ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے اور ترقی تک پہنچیں گے۔ہمارا ہر نوجوان جو ملازمت کر رہا ہے یا کاروبار کر رہا ہے اس کو دیانت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں۔اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنے والا ہونا چاہیے۔کوئی افسر، کوئی ماتحت، کوئی کاروباری شریک یہ کہہ کر آپ پر انگلی نہ اٹھائے کہ یہ نوجوان ، یہ احمدی نوجوان بد دیانتی میں ملوث ہے۔اخلاقی لحاظ سے بھی تمہارا شہرہ ایسا ہو کہ تمہیں لوگ اس طرح جانتے ہوں کہ ہر کوئی یہ کہے کہ ایسے اخلاق کا مالک کسی بھی لحاظ سے بددیانت نہیں ہو سکتا۔اخلاقی لحاظ سے بھی ایسے اچھے ہونے چاہئیں ہم۔کیونکہ اسی دیانت کی شہرت کی وجہ سے ہی آپ کے کاروبار بھی چمکیں گے اور ملازمتوں میں بھی آپ کو بہتر مواقع میسر آئیں گے۔جھوٹ نہ بولنا احمدی خادم اور طفل کی نشانی ہو پھر جھوٹ ہے یہ اتنا عام ہو گیا ہے کہ باتیں کرتے ہوئے بعض لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ جھوٹ کیا ہے اور بیچ کیا ہے۔اور اس جھوٹ کی بیماری اتنی عام ہو گئی ہے کہ نو جوانوں اور بچوں کو اب ایک خاص مہم کے تحت اس سے بچانا ضروری ہو گیا ہے۔جب مذاق میں بھی آپ ایک دوسرے کے ساتھ غلط بیانی کرتے ہیں تو وہ جھوٹ ہی ہے۔کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں اس بارہ میں۔لیکن سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے مذاق کیا ہے۔مذاق میں بعض دفعہ بعض دوسرے لوگوں کو غلط قسم کے فون کر دیتے ہیں ، بعض ای میل بھیج دیتے ہیں اور بعض دفعہ ایسی حرکتوں سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ جانی نقصان بھی ہو جاتا ہے۔لیکن بعض ایسے عادی ہو جاتے ہیں ان چیزوں میں اور اتنا اس کو انجوائے کر رہے