مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 106
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 106 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی کر رہے تو۔تو یہ باتیں ہیں جو حضرت مصلح موعود کے ذہن میں تھیں کہ اگر جماعت نے ترقی کرنی ہے، اگر اس مقصد کو پورا کرنا ہے جس کے حاصل کرنے کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے تو ہمیں اپنے نوجوانوں میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔نوجوانوں کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔اپنے بچوں میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی اور بچوں کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔اپنے بوڑھوں میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی اور عورتوں میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی تبھی ہم اس دعوی میں سچے ہو سکتے ہیں کہ ہم دنیا سے ظلم بھی ختم کریں گے اور جبر بھی ختم کریں گے۔تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رشتے داروں سے حسن سلوک بھی کریں گے جب اس نہج پر سوچیں گے۔ماں باپ کے حقوق بھی ادا کریں گے اور بیوی بچوں کے حقوق بھی ادا کریں گے، ماتحت کا حق بھی ادا کریں گے اور افسر کا حق بھی ادا کریں گے۔نوجوانوں کو دیانتدار ہونا چاہیے بعض ما تحت بھی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے افسروں پر ظلم کر جاتے ہیں اور ان پر ظلم یہ ہے کہ اگر اس نے کسی جائز بات پر بھی روکا ٹو کا ہے، کوئی قاعدہ قانون کی بات کی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ کی ہے تو اس کے خلاف عملہ میں مختلف قسم کی باتیں کر کے اکٹھا کر کے، ایک محاذ بنا لیتے ہیں اس افسر کے خلاف یا پھر موقع پاکر اس سے بالا افسر، اس سے اوپر کے افسر کو جھوٹی سچی شکایتیں کر دیتے ہیں۔یہ جماعتی نظام میں بھی ہو سکتا ہے اور دنیا داری کے نظام میں بھی ہوتا ہے۔اس طرح ماتحتوں پر بھی بعض دفعہ ظلم ہوتا ہے اور تعدی کی صورت اختیار کر جاتا ہے انتہائی ظلم کی صورت اختیار کر جاتا ہے، حد سے بڑھنے کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔کینے پیدا ہوتے ہیں اور اپنے ماتحتوں کے خلاف بھی ، اپنے ساتھیوں کے خلاف بھی اسی طرح باتیں ہورہی ہوتی ہیں ، دلوں میں کینے رکھے جارہے ہوتے ہیں جو پھر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔غرض اگر آپ دیکھیں تو دنیا میں اسی طرح فساد کی صورت نظر آ رہی ہے ہر جگہ اور احمدی بھی کیونکہ اس معاشرے میں رہ رہا ہے۔وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کچھ نہ کچھ اثر احمدیوں پر بھی ہوتا ہے۔پھر بدگمانی میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ اگر کوئی نیک نیتی سے مشورہ بھی دے کسی قسم کا تو اس پر بھی بدظنی شروع ہو جاتی ہے۔غرض بے شمار برائیاں ہیں جو اس حد سے بڑھے ہوئے ظلم کی وجہ سے پیدا ہوتی