مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 102
102 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم برکت اسی میں ہے کہ فیصلہ مان لو، یہ کہنے کی بجائے ان کی ناجائز حمایت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح کی ناجائز حمایت سے تو سزا یافتہ شخص کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔اس کو پتہ ہے میرا بھی ایک گروہ ہے میرے قریبی میرا برا نہیں مان رہے۔میرا اٹھنا بیٹھنا جس معاشرے میں ہے اس میں اس چیز کو برائی نہیں سمجھا جارہا تو پھر اصلاح نہیں ہوتی۔یا ہوتی ہے تو بڑا لمبا عرصہ چلتا ہے۔اس لحاظ سے اصلاح کے لیے حکم ہے تو پورے معاشرے کو حکم ہے کہ جب کسی کے خلاف تعزیر ہو تو پورا معاشرہ اس پر دباؤ ڈالے، اس کی اصلاح کی کوشش کرے، نہ کہ ناجائز حمایت۔فیصلہ منوانے کے لیے دباؤ ڈالیں تو فرمایا: ایسے لوگوں سے فیصلہ منوانے کے لیے ضروری ہے کہ ان پر دباؤ ڈالو۔فیصلہ غلط ہے یا صحیح ہے جب اپیل کے بعد تمام حق ختم ہو گئے تو اب معاشرے کا کام ہے کہ فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے اور اگر معاشرہ صحیح طور پر دباؤ ڈال رہا ہو تو معاشرے کا دباؤ کوئی نہیں سہہ سکتا۔تو چھوٹے معاشرے کی حد تک جماعت کے اندر جیسا کہ میں نے کہا اس حکم کی تعمیل کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ لڑ وان سے ، تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ان پر معاشرے کا دباؤ ڈالو۔رشتہ داریوں کا دباؤ ڈالو، دوستیوں کا دباؤ ڈالو تو جب یہ دباؤ پڑ رہے ہوں گے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی فیصلہ ماننے سے انکاری ہو جائے۔اس طرح پورا معاشرہ نظام جماعت کی مدد کر رہا ہو گا۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ جب اس حکم کے تحت ایسا معاشرہ قائم ہو جائے گا تو ایک دو واقعات کے بعد ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کرے گا۔یہ لڑائیاں ہی نہیں ہوں گی ، یہ فساد ہی نہیں ہوں گے اور فتنے ہی نہیں ہوں گے جماعت کے اندر۔پھر فرمایا کہ جب اس دباؤ کی وجہ سے دوسرا فریق صلح پر راضی ہو جائے ، فیصلہ ماننے پر راضی ہو جائے تو پھر نہ ہی معاشرے کو لوگوں کو ، دوستوں کو ، نہ ہی نظام جماعت کو کسی قسم کی انا کا مسئلہ بنانا چاہیے بلکہ انہیں شرائط پر جو فیصلہ میں طے کی گئی تھیں ان کی تنفیذ ہونی چاہیے۔اور پھر ہر فریق کو یہ بھول جانا چاہیے کہ کوئی مسئلہ ہوا تھا۔خاص طور پر جس فریق کو حق ملنا ہے یا جن لوگوں نے تنفیذ کروانی ہے۔پھر یہ نہیں کہ کچھ عرصے بعد اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کو یا د کر وایا جائے کہ تمہارے ساتھ یہ ہوا تھا، تمہاری