مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 99
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 99 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہمارے اند ر ویسے ہی پہچانا جاتا ہے۔سلام کہنے پر مقدمہ پاکستان میں بھی عموماً لوگ شریف ہیں جس طرح حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ گونگی شرافت ہے۔کچھ کہہ نہیں سکتے۔اندر سے وہ بھی مولوی سے بڑے سخت تنگ ہیں۔تھانیدار والا ہی حساب ہے کہ جب ایک دفعہ ایک احمدی پہ مقدمہ ہو گیا۔سلام کہنے پر مولوی نے پرچہ درج کروایا۔جب تھانیدار نے جرم دیکھا تو اس نے اس کو کہا کہ کیا اس نے تمہیں سلام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ جرم ہے اس نے کیوں مجھے سلام کیا ہے۔اس نے کہا ٹھیک ہے اگر یہ جرم ہے اس احمدی کا تو وہ آئندہ سے تمہیں لعنت بھیجا کرے گا۔احمدی لعنت کبھی نہیں بھیجتا۔دوست ہو یا دشمن ہو احمدی نے تو ہمیشہ سلامتی کا نعرہ ہی لگانا ہے۔کرسی سے اٹھ کر ملیں ، مصافحہ کریں ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا اور آپ سے گفتگو کرتا ، آپ اس سے اپنا چہرہ مبارک نہ ہٹاتے۔یہاں تک کہ وہ خود واپس چلا جائے اور جب کوئی آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہ چھڑاتے یہاں تک کہ وہ خود ہاتھ چھڑا لے۔اور کبھی آپ کو اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے آگے گھٹنے نکال کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔اس سے جہاں ہم سب کے لیے نصیحت ہے ، خاص طور پر جماعت کے عہد یداران کو بھی میں کہنا چاہتا ہوں ، ان کو بھی سبق لینا چاہیے کہ ملنے کے لیے آنے والے کو اچھی طرح خوش آمدید کہنا چاہیے۔خوش آمدید کہیں ، ان سے ملیں ، مصافحہ کریں، ہر آنے والے کی بات کو غور سے سنیں۔بعض لکھنے والے مجھے خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے بعض معاملات ہیں کہ آپ سے ملنا تو شاید آسان ہولیکن ہمارے فلاں عہدیدار سے ملنا بڑا مشکل ہے۔تو ایسے عہدیداران کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ حسنہ کو یاد رکھنا چاہیے، ملنے والے سے اتنے آرام سے ملیں کہ اس کی تسلی ہو اور وہ خود تسلی پا کر آپ سے الگ ہو۔پھر دفتروں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ہر آنے والے کو کرسی سے اٹھ کر ملنا چاہیے، مصافحہ کرنا چاہیے۔اس ابن ماجه کتاب الادب باب اکرام الرجل جليسه