مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 12
12 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم میری عبودیت یعنی میرا بندہ ہونا اور غلام ہونا اور نیاز مندی کی انتہاء بجر بسجدہ کے اور کوئی نہیں۔جب اس قسم کی نماز پڑھے تو وہ نیاز مندی اور سچائی جب اعضاء اور جوارح ( جوارح بھی اعضاء ہی ہیں ) پر اثر کر چکی اور جوش مار کر ترقی کرے گی اور اس کا اثر مال پر پڑے گا“۔تو یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگوں کو نماز کی اہمیت کا اندازہ ہو۔خدام الاحمدیہ پر قیام نماز کی ذمہ داری آپ جو خدام الاحمدیہ کی عمر کے ہیں یہ عمر کی ایک ایسی Range ہے یعنی پندرہ سے چالیس سال تک کی۔جس میں باپ بھی ہیں، بھائی بھی ہیں، بیٹے بھی ہیں۔تو بحیثیت باپ آپ کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین پیدا کرنے کیلئے اپنے عمل سے اپنے بچوں کے سامنے یہ نمونہ پیش کریں کہ تمہاری فلاح اور تمہاری کامیابی اور تمہاری آئندہ کی ترقی خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں ہے اور خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ وقت پر نمازوں کی ادائیگی اور باجماعت نمازوں کی ادائیگی ہے۔بھائی کی حیثیت سے بھی یہ ذمہ داری ہے کہ چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے نیک نمونہ بنیں۔یہاں پھر میں کہوں گا کہ ماں باپ کی اصل میں ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے بچے کی خاص طور پر ایسی تربیت کریں۔تو آپ میں سے بہت سارے ایسے ہیں جن کے بچے بھی اس عمر کو پہنچ گئے ہیں جن کی تربیت کی ضرورت ہوگی۔عموماً جماعت کیلئے بھی میں عرض کر رہا ہوں کہ ایسی تربیت کریں بڑے بچے کی کہ چھوٹے بچے خود بخود اس سے نمونہ حاصل کریں اور پھر آپ کو تربیت میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔اگر بڑا بچہ نمازوں کا عادی ہو جائے گا تو چھوٹا بچہ خود بخود اپنے ماحول کو دیکھ کر نمازیں پڑھنے لگ جائے گا۔تو خدام الاحمدیہ جو بظا ہر نو جوانوں کی ایک تنظیم ہے لیکن عملاً اس میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ عمر کے فرق کی وجہ سے سیکھنے والے بھی موجود ہیں اور سکھانے والے بھی۔اس میں متاثر کرنے والے بھی موجود ہیں اور اس میں متاثر ہونے والے بھی اور اس میں اچھائی اور برائی کا رنگ دینے والے بھی موجود ہیں اور رنگ پکڑنے والے بھی۔پس اگر آپ میں سے ہر ایک اگر نیکی کو قائم کرنے والا اور برائی کو رد کرنے والا بن جائے اور نمازوں کو قائم کرنے والا بن جائے تو سمجھ لیں کہ آپ کامیاب ہو گئے۔اور جس قوم کے نوجوانوں میں عباد الرحمن یعنی عبادت کرنے والے اُس کے حقیقی بندے پیدا ہوجائیں تو اس کو پھر دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔پس اس طرز پر اپنی زندگی ڈھالیں اور اپنے چھوٹوں کی بھی تربیت کریں۔