مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 11

مشعل راه جلد پنجم 11 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نماز با جماعت ادا کرو گے تو یقینا تمہارا اس طرح نمازیں پڑھنا تمہیں بے حیائی کے کاموں اور ہر نا پسندیدہ بات سے روکے گا۔اب کس کا دل نہیں چاہتا کہ بے حیائی کی باتوں سے رکے حتی کہ جو برائیوں میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں کچھ وقت بعد ان کو بھی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ان کو ان بے حیائی کی باتوں اور برے کاموں سے باہر آ جانا چاہیے۔کئی لوگ لکھتے بھی ہیں کہ دُعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں اس برائی سے بچالے اور اس گند سے نکالے۔تو دعا کروانے سے پہلے خود دعا کیلئے کہنے والے کو بھی اپنے لئے دعا کرنی چاہیے۔اور یہ کوشش کریں کہ نمازیں با قاعدہ پڑھیں نماز کی عادت ڈالیں۔حضرت مصلح موعود ) نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ میں تو اس یقین پر قائم ہوں کہ اگر کوئی بے حیائی اور گناہ کی انتہاء تک بھی پہنچ جائے لیکن اگر وہ نمازیں پڑھنے والا ہے تو ایک وقت میں اللہ تعالیٰ اُس کو اس گند سے نکال دے گا۔لیکن نمازیں پڑھنا بھی صرف ٹکریں مارنا نہیں۔نماز کا حق ادا کر کے پڑھنے کو نمازیں پڑھنا کہا جاتا ہے۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ :- نماز بھی گناہوں سے بچنے کا ایک آلہ ہے۔نماز کی یہ صفت ہے کہ انسان کو گناہ اور بدکاری سے ہٹا دیتی ہے۔سو تم ویسی نماز کی تلاش کرو اور اپنی نماز کو ایسی بنانے کی کوشش کرو۔نماز نعمتوں کی جان ہے۔اللہ تعالیٰ کے فیض اسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں۔سو اس کو سنوار کر ادا کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا ارشاد ہے کہ:۔نماز ظاہری پاکیزگی اور ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرمگاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے کہ جیسے میں ان ظاہری پاکیزگی کو لوظ رکھتا ہوں، اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور سچی طہارت عطا کر اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سبحانیت ، قدوسیت ، وحدیت ، پھر ربوبیت، رحمانیت ، رحیمیت ، اور اس کے ملک در ملک میں تصرفات اور اپنی ذمہ داریوں کو یاد کر کے اس قلب کے ساتھ ماننے کو تیار ہوں۔سینے پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں۔اس قسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس میں وہ خاصیت اور اثر پیدا ہوتا ہے جو إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ میں بیان ہوا ہے۔پھر پاک کتاب کا کچھ حصہ پڑھے اور رکوع کرے اور غور کرے کہ