مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 115

مشعل راه جلد پنجم 115 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کوئی جماعتی عہدیدار ہے، کارکن ہے یا کوئی شخص دنیاوی انتظامیہ میں ہے کہ عام روز مرہ کے تعلق والا بنا اور سب سے بڑی نعمت جو تو نے ہمیں دی ہے وہ ایمان کی نعمت ہے، ہمیشہ ہمیں اس پر قائم رکھ کبھی ہم اس سے دور جانے والے نہ ہوں۔اور دعا پڑھتے رہیں۔الْوَهَّابُ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ (آل عمران : ۹) اگر دعا کی طرف توجہ نہیں ہوگی تو شیطان مختلف طریقوں سے مختلف راستوں سے آکر ورغلاتا رہے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے بغیر نہیں بچا جا سکتا۔جیسے کہ میں پہلے بیان کرتا آرہا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سے ہی بات کرتا ہے جو پیشگی اس سے دعائیں مانگے اور جس پر اس کی رحمت ہو۔اور یہ رحمت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے۔۔۔کارکنان اور عہدیداران کے نقائص تلاش نہ کریں کوئی شخص اپنے زور بازو سے کبھی بھی پاک صاف نہیں ہوسکتا۔اور واسطوں میں ہوتا ہے کہ اگر کسی کی کوئی خدمت کرنے کا موقع مل جائے، کسی کام پر مقرر کر دیا جائے تو مقرر ہونے کے بعد اپنے سے پہلے عہدیدار یا کارکن کے متعلق نقائص نکالنے شروع کر دے کہ دیکھو یہ کام میں نے کیسے اعلیٰ رنگ میں کر لیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے عہد یدار یا کارکن سے ہو ہی نہیں سکایا اس میں اتنی لیاقت ہی نہیں تھی کہ وہ کر سکتا۔جب کہ صحیح طریق تو یہ ہے کہ اگر کام ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے مجھے یہ توفیق دی کہ یہ کام میرے ذریعہ سے ہو گیا ہے۔اور یہ دعا کرے کہ اے اللہ! اب اس وجہ سے میرے دل میں کوئی بڑائی نہ آنے دینا اور میری اصلاح کر دینا۔تو اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو روز مرہ ہوتے رہتے ہیں۔تو انسان کو ہمیشہ یہ مد نظر رکھنا چاہیے ورنہ شیطان کے راستے پر چل کر کم از کم جو اچھا کام بھی ہوا ہو، ان کاموں کو مکمل کرنے کے بعد یونہی اپنی نیکی کا اظہار کرنے کے بعد کہ دیکھو میں نے یہ کر دیا، وہ کردیا، اپنی نیکی کو بر باد کرنے والی بات ہے۔غلط افکار اور عریاں فلموں سے بچیں جب اس نہج پر اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو یہی سلامتی کا راستہ ہے۔انسان کی بچت اسی میں ہے کہ