مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 97

مشعل راه جلد پنجم 97 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دلائیں۔وقت بہر حال کسی احمدی بچے کا ضائع نہیں ہونا چاہیے۔پھر ایسی فہرستیں ہیں جو ان پڑھے لکھوں کی تیار کی جائیں جو آگے پڑھنا چاہتے ہیں۔Higher Studies کرنا چاہتے ہیں لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتے تو جس حد تک ہو گا جماعت ایسے لوگوں کی مدد کرے گی لیکن بہر حال سیکرٹریان تعلیم کو خود بھی اس سلسلے میں Active ہونا پڑے گا اور ہونا چاہیے۔تو یہ چند مثالیں ہیں جو ذمہ داری ہے سیکرٹری تعلیم کی اور بھی بہت سارے کام ہیں اس بارے میں چند مثالیں میں نے دی ہیں۔اگر محلے کے Level سے لے کر National Level تک سیکرٹریان تعلیم مؤثر ہو جائیں اور کام کرنے والے ہوں تو یہ تمام باتیں جو میں نے بتائی ہیں اور ان کے علاوہ بھی اور بہت ساری باتیں ہیں ان سب کا علم ہوسکتا ہے، فہرست تیار ہو سکتی ہے اور پھر ایسے طلباء کی مددکر کے پھر آگے پڑھایا بھی جاسکتا ہے۔سیکرٹری تربیت اور اصلاح وارشاد کی ذمہ داریاں پھر سیکرٹری تربیت یا اصلاح وارشاد ہے ان کو بھی بہت فعال کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ سیکرٹریان تربیت یا اصلاح وارشاد بعض جگہوں پر کہلاتے ہیں اپنے معین پروگرام بنا کر نچلے سے نچلے Level سے لے کر مرکزی Level تک کام کریں جس طرح کام کرنے کا حق ہے تو امور عامہ کے مسائل بھی اس تربیت سے حل ہو جائیں گے تعلیم کے مسائل بھی کافی حد تک کم ہو جائیں گے ، رشتہ ناطہ کے مسائل بھی بہت حد تک کم ہو جائیں گے۔یہ شعبے آپس میں اتنے ملے ہوئے ہیں کہ تربیت کا شعبہ فعال ہونے سے بہت سارے شعبے خود ہی فعال ہو جاتے ہیں اور جماعت کا عمومی روحانی معیار بھی بلند ہوگا۔تو یہ جو حدیث ہے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے سے یہ مراد ہے کہ یہ عہدے تمہارے سپرد ہیں۔ان عہدوں کی ذمہ داری کو سمجھو اور ان کو ادا کرو۔جب اس طریق سے ہر عہدیدار اپنے اپنے شعبہ کی ذمہ داریاں ادا کرے گا تو لوگوں کے دلوں میں آپ کے لئے مزید عزت و احترام پیدا ہوگا اور جیسا کہ میں نے کہا جماعت کا عمومی معیار بھی بلند ہو گا۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود کا ایک اقتباس ہے وہ میں سناتا ہوں۔فرمایا :- دنیا میں بہترین مصلح وہی سمجھا جاتا ہے جو تربیت کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پیدا کر دیتا ہے کہ اس کا حکم ماننا لوگوں کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دل پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم باقی الہامی کتب پر فضیلت رکھتا ہے اور الہامی کتابیں تو یہ