مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 96

96 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم کے ٹوکری رکھ کر یا چند کپڑے کے تھان رکھ کر اس وقت دکانوں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔تو یہ ہمت دلانا بھی توجہ دلانا بھی ایسے لوگوں کے پیچھے پڑ کر کہ کسی نہ کسی کام پر لگیں یہ بھی جماعتی نظام یا جماعتی نظام کے عہدیدار کا کام ہے، جس کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے یعنی سیکرٹری امور عامہ۔سیکرٹریاں تعلیم کی ذمہ داریاں پھر سیکرٹری تعلیم ہے عموماً سیکرٹریان تعلیم جماعتوں میں اتنے فعال نہیں جتنی ان سے توقع کی جاتی ہے یا کسی عہد یدار سے توقع کی جاسکتی ہے اور یہ میں یونہی اندازے کی بات نہیں کر رہا۔ہر جماعت اپنا اپنا جائزہ لے لے تو پتہ چل جائے گا کہ بعض سیکرٹریان پورے سال میں کوئی کام نہیں کرتے حالانکہ، مثلا سیکرٹری تعلیم کی مثال دے رہا ہوں۔سیکرٹری تعلیم کا یہ کام ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بچوں کی فہرست بنائے جو پڑھ رہے ہیں، جو سکول جانے کی عمر کے ہیں اور سکول نہیں جا رہے۔پھر وجہ معلوم کریں کہ کیا وجہ ہے کہ یہ سکول نہیں جا رہے؟ مالی مشکلات ہیں یا صرف نکما پن ہی ہے۔اور ایک احمدی بچے کو تو توجہ دلانی چاہیے کہ اس طرح وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔مثلاً پاکستان میں ہر بچے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ شرط لگائی تھی کہ ضرور میٹرک پاس کرے۔ہر احمدی بچے کو F۔A ضرور کرنا چاہیے بلکہ اب تو معیار کچھ بلند ہو گئے ہیں اور میں کہوں گا کہ ہر احمدی بچے کو ایف۔اے ضرور کرنا چاہیے۔افریقہ میں جو کم از کم معیار ہے پڑھائی کا۔سیکنڈری سکول کا یا جی سی ایس سی ، یہاں بھی ہے وہاں بھی۔اسی طرح ہندوستان اور بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں میں، یہاں بھی میں نے دیکھا ہے یورپ کے امریکہ کے بعض لڑکے ملتے ہیں وہ پڑھائی چھوڑ بیٹھے ہیں تو یہ کم از کم معیار ضرور حاصل کرنا چاہیے۔بلکہ یہاں تو تعلیمی سہولتیں ہیں بچوں کو اور بھی آگے پڑھنا چاہیے اور سیکرٹریان تعلیم کو اپنی جماعت کے بچوں کو اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہیے۔اگر تو یہ بچے جس طرح میں نے پہلے کہا کسی مالی مشکل کی وجہ سے انہوں نے پڑھائی چھوڑی ہوئی ہے تو جماعت کو بتائیں۔جماعت انشاء اللہ حتی الوسع ان کا انتظام کرے گی اور پھر یہ بھی ہوتا ہے بعض دفعہ کہ بعض بچوں کو عام روایتی پڑھائی میں دلچسپی نہیں ہوتی۔اگر اس میں دلچسپی نہیں ہے تو پھر کسی ہنر کے سیکھنے کی طرف بچوں کو توجہ