مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 95

مشعل راه جلد سوم 95 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اس لئے ضروری نہیں کہ آپ ایک ہی قسم کی ٹوپی پہنیں۔آپ نئی ٹوپیاں کیوں نہیں ایجاد کرتے جو فیشن بھی بن جائے اور ٹوپی کی ضرورت بھی پوری ہو جائے۔آپ کے اندر نو جوان خون ہے جس کا تقاضا ہے کہ آپ کی طرز زندگی میں دلچسپیاں پیدا ہوں۔تنوع سے تو خدا نہیں روکتا۔اچھے لباس سے تو خدانہیں روکتا۔قرآن کریم تو فرماتا ہے۔قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللهِ الَّتِى اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيمَةِ (الاعراف:33) زینت حرام نہیں کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اعلان کر دے مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ کس نے حرام کر دیا ہے اس زینت کو اور زینت کی بہترین چیزوں کو۔جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے نکالی تھیں۔قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا تو کہہ دے کہ یہ ایمان والے بندوں کی خاطر پیدا کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے لئے ہر نعمت پیدا کرتا ہے۔عباد کا لفظ بول کر تو بہت ہی پیار کا رشتہ قائم فرمایا اور فرمایا وہ جو نیک بندے ہیں۔ایمان لانے والے ہیں۔جس طرح تم لوگ اپنے پیاروں کی مہمانیاں کرتے ہو۔میں نے بھی اُن کی خاطر ا چھی چیزیں پیدا کی ہیں وَالطَّيِّـتِ مِنَ الرِّزْقِ - طَيِّبست میں یہ تشریح فرما دی کہ حرام کی چیزیں یا چھینی جھپٹی چیزیں مراد نہیں ہیں بلکہ زینت کی چیزیں ہوں اور سب طیبست ہوں یعنی رزق میں سے بھی طبت اور پہنے کی چیزوں میں سے بھی طیبت ہوں۔ان میں بے حیائی کی جھلک نہ ہو۔ان میں پاکیزگی ہو۔ان کے اندر دنیا کی کوئی فیشن پرستی اور کھوکھلا پن نہ ہو ورنہ وہ طیبات نہیں رہیں گی۔ان میں اگر اللہ کا رنگ پایا جاتا ہو اور خدا کی محبت جھلکتی ہو تو اس سے وہ طَيِّبت بنتی ہیں۔پھر فرمایا هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الحيوةِ الدُّنْيَا اس دنیا میں بھی یہ مومنوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں خَالِصَةً يَومَ القِيمَةِ اور قیامت کے دن صرف مومنوں کے لئے ہوں گی۔یہاں تو ان کے طفیل غیر بھی شریک ہو گئے ہیں لیکن قیامت کے دن خالصہ مومنوں کے لئے ہوں گی۔نیک بننے کے لئے گند الباس پس ( دین حق ) کسی ایسے صوفی ازم کی تعلیم نہیں دیتا کہ ضرورا پنا حلیہ بگاڑ کر پھریں۔انسانوں