مشعل راہ جلد سوم — Page 700
مشعل راه جلد سوم 700 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ تو اس نیت کے ساتھ کہ اس کے حق میں بہتر ہو کوئی حرج نہیں ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعاؤں میں ہے دے ان کو عمر و دولت مگر وہ دولت جوان کے پاؤں کی جوتی ہو وہ دولت ان پر سوار نہ ہو جائے۔پس اس پہلو سے بچوں کے لئے دولت مانگنا بھی ٹھیک ہے مگر اس نیت کے ساتھ کہ وہ دولت بچے آگے خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوں۔ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ابرار کو اللہ تعالیٰ نے ابرار اس لئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کیا۔جس طرح تم پر تمہارے والد کا حق ہے اسی طرح تم پر تمہارے بچے کا حق ہے۔یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری نصیحتیں تھیں جو سیدھا دل میں گڑ جاتی ہیں۔دل سے نکلتی ہیں ، دل میں اتر جاتی ہیں۔سادہ لفظ ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کا یہ انداز ہے کہ تھوڑی سی باتوں میں بہت سی باتیں کہہ جاتے ہیں اور غوطہ لگا کر اس کے اندر چھپے ہوئے موتیوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔تو اس پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی غور کیا اور اس میں چھپے ہوئے موتیوں کو نکال کر ہمارے سامنے اس کو آسان کر کے پیش کر دیا۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں:۔حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ میں بچہ تھا، جوان ہوا، اب بوڑھا ہو گیا۔میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہوا ورنہ اس کی اولا دکوکٹڑے مانگتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے۔یہ بات بھی ایسی ہے کہ جس کو جماعت احمدیہ میں ہر گھر میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بہت سے غریب ماں باپ بے حد قربانیاں کرنے والے وہ اللہ کے حضور حاضر بھی ہو چکے ہیں اور ان کی اولادیں دنیا میں بڑے بڑے اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں۔خدا تعالیٰ نے غریبوں کی اولادوں میں اتنی دولت دی ہے کہ ان کو سمجھ نہیں آتی کہ خرچ کیسے کریں۔بہر حال اکثر وہی ہیں جو خدا کی راہ میں ہی خرچ کرتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ جو بات ہے یہ حضرت داؤد کی زبور سے لی ہے جو آپ بیان کر رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہم نے تو سات پشتوں تک پھر بھو کا مرتے نہیں دیکھا۔تو اچھی تربیت کریں اور دولت کے لئے بے شک دعا کریں مگر اس شرط کے ساتھ جو میں نے بیان کی ہے اور یقین رکھیں کہ خدا متقیوں کی اولا دکو ضائع نہیں کرتا۔