مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 682

682 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اب یہ زمانہ کسر صلیب کا ہے تقریر کے مقابلہ پر تلوار سے کام لینا بالکل نادانی ہے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس طرح اور جن آلات سے کفار لوگ تم پر حملہ کرتے ہیں انہیں طریقوں اور آلات سے تم ان لوگوں کا مقابلہ کرو۔اب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے حملے ( دین حق ) پر تلوار سے نہیں ہیں بلکہ قلم سے ہیں لہذا ضرور ہے کہ ان کا جواب قلم سے دیا جاوے اگر تلوار سے دیا جاوے گا تو یہ اعتدا ہوگا۔یہ زیادتی ہوگی یہ ظلم ہو گا جس سے خدا تعالیٰ کی صریح ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے۔إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقره: 191) یعنی اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والے کو زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا پھر اگر عیسائیوں کو قتل بھی کر دیا جاوے اب یہ دیکھیں کتنا اہم نکتہ ہے جہاں بعض ظالم ( دین حق ) کا نام لے کر عیسائیوں کے قتل کا اجازت نامہ دیتے ہیں یعنی ملاں ملان کے لوگ۔ان پر حضرت مسیح موعود کی تحریر ایک حرف آخر ہے جو ان کو خدا کی راہ میں مجرم قرار دینے کے لئے بہت کافی ہے فرماتے ہیں۔پھر اگر عیسائیوں کو قتل بھی کر دیا جائے تو اس سے وہ وساوس ہرگز دور نہ ہوں گے جو کہ دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں قتل کرنے سے دل کے وساوس کیسے نکل جائیں گے بلکہ جب دین کے نام پر قتل کیا جائے تو بکثرت لوگوں کے دلوں میں وساوس پیدا ہوں گے اور اس کے نتیجہ میں ان کا غلط دین زیادہ پھیلے گا اور دلوں میں انتقامی کارروائی پیدا ہوگی اور سمجھیں گے کہ محمد رسول اللہ کا دین زیادہ تر تلوار ہی کے زور سے پھیلا تھا چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں بلکہ وہ اور بھی پختہ ہو جائیں گے اور کہیں گے واقع میں اہل ( دین حق ) کے پاس اپنے مذہب کی حقانیت کی دلیل کوئی نہیں لیکن اگر شیریں کلامی اور نرمی سے ان کے وساوس کو دور کیا جاوے تو امید ہے کہ وہ سمجھ جائیں گے۔اور ہم نے دیکھا ہے کہ بعض عیسائی لوگ یہاں آتے ہیں ان کو جب نرمی سے سمجھایا جاتا ہے تو اکثر سمجھ جاتے ہیں اور تبدیل مذہب کر لیتے ہیں جیسے کہ ماسٹر عبدالحق صاحب (نومبائع)۔پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے کمر بستہ ہو کر دین کی خدمت میں مصروف ہوں کیونکہ یہ وقت اسی کام کے لئے ہے اگر اب کوئی نہیں کرتا تو اور کب کرے گا ؟ ضروری ہے کہ ہر طبقہ کے انسانوں کو مناسب حال دعوت کرنے کا طریق سیکھے یعنی ہر قسم کے طبقے کو کیسے دعوت پہنچانی چاہیے یہ طریقہ سیکھیں بعض کو باتوں کا ایسا ڈھنگ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہنا ہوتا ہے کہہ دیتے ہیں اور اس سے ناراضگی بھی پیدا نہیں ہوتی یہ