مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 681

681 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کو وقف سمجھتے تھے۔کوئی ان میں سے کسی مال کا کسی خدمت کا محتاج نہیں تھا۔ہر ایک سمجھتا تھا کہ محمد رسول اللہ کا فریضہ میرا فریضہ ہے۔(صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس دور سے اس دور کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں آنحضرت کے صحابہ رضوان اللہ یھم بھی اشاعت ( دین حق ) کے واسطے دور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔یہ جو چین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہ رضوان اللہ یھم میں سے کوئی شخص پہنچا ہو گا اگر اسی طرح ہیں یا تمیں آدمی متفرق مقامات میں چلے جاویں تو بہت جلدی ( دعوت الی اللہ ) ہو سکتی ہے۔مگر جب تک ایسی آدمی ہمارے منشاء کے مطابق اور قناعت شعار نہ ہوں تب تک ہم ان کو پورے اختیارات بھی نہیں دے سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایسے قانع اور جفاکش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے پتوں پر ہی گزارا کر لیتے تھے حضرت مسیح موعود کی یہ خواہش بھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی آپ کے زمانے میں بکثرت ایسے واقفین پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے واقعتا درختوں کے پتوں اور جڑی بوٹیوں پر گزارے کئے ہیں اور اللہ کی راہ میں ہر آنے والی مشکل کو بغیر شکایت کے قبول کیا بلکہ اپنے اوپر احسان سمجھتے ہوئے قبول کیا۔حضرت مسیح موعود اب ایک ایسا مضمون بیان کر رہے ہیں جس کا خصوصیت سے اس زمانہ میں اطلاق ہو رہا ہے کہ آخری جنگ جو ( دین حق ) اور کفر کے درمیان لڑی جانی ہے اس کی نوعیت کو سمجھیں یہ جنگ در اصل ایک طرف حضرت مسیح ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ کی نمائندگی میں ہیں ان کی لڑائی مسیحی کہلانے والوں سے ہے جنہوں نے دین مسیح کو برباد کیا ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ عیسائیت سے جنگ ہے تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک ہم عیسائیت کے مخالف ہیں ہم حضرت مسیح کی عیسائیت کے بچے پیروکار اور اس عیسائیت کو دنیا پر غالب کرے کے لئے کوشاں ہیں لیکن اس عیسائیت کے خلاف ہیں جو بعد کے گمراہ لوگوں نے ایجاد کر لی اور حضرت مسیح کی طرف منسوب کر دی۔پس اس بات کو اس طرح کھول کر عیسائی ملکوں میں بیان کرنا چاہیے تا کہ آپ کی بات سن کر کسی کے دل میں بے وجہ ناجائز رد عمل نہ پیدا ہو۔لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ تو آ کر ہمیں مفتوح کرنے آرہے ہیں ہمارے دین کو بدلنے آرہے ہیں ہم ہر گز کسی کے دین کو بدلنے نہیں آرہے ہم ان کے دینوں کو ان کے اصل پر بحال کرنے آئے ہیں پس ہم تو ان کے معین ہیں ہم تو ان کی خدمت کے لئے سفر کرتے ہیں۔اور ان کی خدمت کے لئے ہی (دعوت الی اللہ ) کا جال بچھا رکھا ہے۔پس اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اب دیکھیں حضرت مسیح موعود کا یہ اقتباس آپ کو آسانی سے سمجھ آ جائے گا۔