مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 648

648 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کرنے والا ہو۔اس خواہش کے ساتھ وہ اولاد کی خدمت کریں، وہ سچی خدمت ہے۔باقی سب جھوٹ ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا حال دیکھ لیں کتنی دعائیں کی ہیں مصلح موعود کی پیدائش سے پہلے۔ہر بچے کے لئے دعائیں کی ہیں۔اتنی کوشش کی بچپن سے ہی ، دین کے سوا ان کی کوئی نظر برداشت نہیں کی۔بہت تفصیلی واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دین کے معاملے میں اپنے بچوں سے آپ نے نرمی نہیں کی۔یعنی نرمی کے باوجود آپ کی طرز میں ایک تلخی آجایا کرتی تھی ، جب دیکھتے تھے کہ دین کے معاملے میں کوئی ہلکی بات کر رہا ہے اور وہ تلخی بظاہر جسمانی سختی نہ ہونے کے باوجود جسمانی سختی سے بہت زیادہ کام کرتی تھی۔اب یہ سب کچھ اپنی جگہ، بے انتہا دعا ئیں ، اولاد کے پیدا ہونے سے پہلے دعائیں ،ان کے پیدا ہونے کے بعد مسلسل ان پر نظر اور یہ عرض کہ یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا کتنی عاجزانہ دعا ہے۔ان سب کوششوں کے باوجود انحصار نہیں ہے۔جانتے ہیں کہ میں ایک عاجز بندہ ہوں۔جب تک اللہ قبول نہیں کرے گا مجھے یہ نصیب نہیں ہوگا کہ جاتی دفعہ میں پیار اور محبت کی نظر ڈالوں۔میں دیکھوں کہ میری اولاد وہ بن گئی ہے جو عمر بھر میں بنانا چاہتا تھا۔آپ کیوں اس مثال کو نہیں پکڑتے۔دیکھتے نہیں کس کو اپنا امام مانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنا امام مانا ہے جن کا اولاد کے متعلق یہ نظریہ تھا۔گریہ وزاری کرتے ہیں۔کاش میں ان پر محبت کی نظر ڈال سکوں جب میں واپس ہورہا ہوں۔خدا گواہ ہے کہ جب وہ واپس ہوئے ہیں تو انتہائی نیک اولاد پیچھے چھوڑ کر گئے تھے ، ہر پہلو سے خدمت دین کرنے والی۔بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اسی رنگ میں اونچے ہوئے ہیں، اسی رنگ میں لہلہاتے رہے ہیں۔وہ لہلہاتے تو تھے پر ان میں زردی کبھی نہیں آئی۔وہ چور نہیں بنے کہ پھر مٹی میں مل جائیں۔ان میں سے ہر ایک کے متعلق ہم گواہ ہیں کہ جب تک وہ زندہ رہا اپنی طرف سے انتہائی کوشش کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ دین کا علم بردار بنے ، دین کی خدمت کرنے والا بنے۔” ہوج کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمہ ( دین حق ) کا ذریعہ ہو۔ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ذکریا کی طرح اولا د دے دے۔اب ایک اور بات بڑی عظیم فرمائی گئی ہے۔بہت سے لوگوں نے اولاد کے لئے دعاؤں کی درخواست کی لیکن ان کی درخواست میں غالباً کوئی ملونی نفس کی ہوتی ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کو اس لئے دیکھنا چاہتے ہیں