مشعل راہ جلد سوم — Page 647
647 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم تو ایسے معاملات اور بھی ہیں جو وقتاً فوقتاً میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔مگر آئندہ سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن کے متعلق جماعت کو علم ہو وہ ان کی ملاقات ہی کروانی چھوڑ دیں۔یہ نفس کا دھوکہ ہے جو وہ دیتے ہیں اور مجھے اس سے اور بھی تکلیف پہنچتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کا لحاظ ہو۔به لحاظ رکھو کہ جن کو پیچھے چھوڑ کے جا رہے ہو وہ متقی ہوں اور خدا کے حضور تم متقیوں کے امام لکھے جاؤ۔فرماتے ہیں اولا ددین کی خادم ہو۔یہ لحاظ ہو لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولا ددین کی پہلوان ہو۔بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہیں۔اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے ایسا کرتے ہیں اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں۔صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے۔مگر یا درکھو کہ اس طرح پر دین بالکل بر باد ہو جاتا ہے۔غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو“۔پھر فرماتے ہیں: ( ملفوظات۔جلد سوم۔جدید ایڈیشن صفحہ 599) میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں“۔یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے۔یہ فطرت کی بیماری ہے جو بڑی دیر سے چلی آرہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی جو بڑے بڑے خدمت کرنے والے اور جان فدا کرنے والے اور دین کی راہوں میں دوڑ دوڑ کر چلنے والے ( رفقاء) موجود تھے ان میں بھی ایسے لوگ تھے۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں، محبت دنیا ان سے کراتی ہے۔خدا کے واسطے نہیں کرتے۔اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا پر نظر کر کے یہ دعا کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمہ ( دین حق کا ذریعہ ہو۔بچپن سے بچوں کی تربیت اور اس کے تقاضے اب آپ فرماتے ہیں ایک بچہ کوئی پیدا ہو جائے جو آگے دین کا نام بلند کرنے والا ہو، دین کا کلمہ بلند