مشعل راہ جلد سوم — Page 611
مشعل راه جلد سوم 611 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی یہی حالت ہے۔دنیا ان سے غافل ہے مگر میرے ساتھ ان کا ایک علاقہ ہے جس کی وجہ سے وہ بے تکلفی سے مجھ سے باتیں کرتے ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کثرت سے ایسے احمدی احباب دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں جن کی نماز میں ختم ہونے سے پہلے ہی اس طرح مقبول ہو جاتی ہیں کہ ان کی ساری خواہشات پوری ہو چکی ہوتیں ہیں۔اطلاع بعد میں آتی ہے مگر بعض دفعہ تو وقت ملانے سے پتا چلتا ہے کہ جس وقت انہوں نے دعا کی تھی بعینہ اسی وقت وہ پاک تبدیلی رونما ہوگئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں کوئی فرضی نصیحتیں نہیں ہیں ایک صاحب تجربہ کی باتیں ہیں اور یہ تجربہ ہے جس کی طرف میں خصوصیت سے آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی نمازوں کو پہچا نہیں۔اگر دل لگا کر پڑھیں گے اور خدا کی یاد کی خاطر پڑھیں گے تو اللہ آپ کا نگران ہو جائے گا اور بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کی دعا دل سے اٹھتی ہی نہیں ، ضرورت محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور اللہ خود ہی اس ضرورت کو پورا فرما دیتا ہے۔فرمایا ”نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔آپ درد دل سے اپنی التجا کا ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیتے ہیں اور اللہ سن رہا ہوتا ہے، بڑی توجہ سے سنتا ہے۔” پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے۔کتنا عظیم الشان قطعی نشان ہے نمازوں کی قبولیت کا۔ایک وقت گزرتا ہے انسان التجائیں کرتا چلا جاتا ہے اور بظاہر جواب نہیں آتا۔مگر دل یقین سے بھرا ہوتا ہے کہ میں کس عالی ہستی کے حضور عاجزانہ دعائیں کر رہا ہوں اور ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں۔پھر ایک وقت آتا ہے جو سنتا تھاوہ بولتا بھی ہے۔یہ وہی بات ہے جس کے متعلق میں بارہا ایک واقعہ بیان کر چکا ہوں مگر وہ اتنا پیارا واقعہ ہے کہ جتنی دفعہ بھی سناؤں دل اس سے تھکتا نہیں۔ایک بزرگ کے متعلق یہ آتا ہے کہ وہ بہت گریہ وزاری سے ایک دعا کیا کرتے تھے اور ہمیشہ کرتے چلے جاتے۔ایک مرتبہ ایک شاگرد کو خیال آیا کہ یہ رات کو اٹھ کر جو گریہ و زاری کرتے ہیں میں بھی ساتھ کھڑا ہوں اور پتہ تو کروں یہ کہتے کیا ہیں۔وہ جب رات کو اٹھے اور دعائیں شروع کیں تو یہ بھی ساتھ کھڑا تھا۔چند دن کے اندر اس نے یہ عجیب نظارہ دیکھا۔اللہ اسے کچھ سمجھانا چاہتا تھا۔جب وہ دعا کرتے تھے تو جواب یہ آتا تھا کہ یہ دعا مقبول نہیں ہوئی، میں نے قبول نہیں کی۔چند دن میں یہ تھک گیا جو مرید بنا ہوا تھا، آخر اس نے عرض کی کہ آپ میرے امام ہیں مگر یہ حرکت کیا کر رہے ہیں اللہ کہ رہا ہے کہ میں نہیں سن رہا تمہاری بات میں نہیں مان رہا آپ کئے جارہے ہیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ دیکھو ( میں ) ایک سائل ہوں، ایک غریب بے کسی بندہ ہوں۔میرا اور کام کیا ہے سوائے ہاتھ