مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 596 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 596

596 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم ہے۔یہ ایک دن کا سفران کا سکول کی طرف ایسا ہے جس کے لئے آپ کی ساری توجہ مبذول ہو جاتی ہے اور ہمیشہ کا سفر جس میں آئندہ سفر کی تیاری کرنی ہے یعنی مرنے کے بعد، اس کی طرف توجہ نہیں ہے۔( بیوت الذکر ) بنانا اچھی چیز ہے مگر بیوت الذکر ) کے لئے نمازی بنانا ضروری ہے۔اگر ( بیوت الذکر ) بنائیں گے اور نمازی نہیں بنائیں گے تو اس کا کیا فائدہ۔میرے علم میں یہاں ایسی ( بیوت الذکر ) ہیں جہاں دو نمازیں ہوتی ہیں۔پانچ ہونی چاہئیں ، دو کیوں ہوتی ہیں۔ان ( بیوت الذکر ) کا اس کے سوا پھر کیا فائدہ کہ دنیا کو دکھانے کے لئے کہ ہم نے ، جماعت احمدیہ نے ایک بڑی ( بیت الذکر ) بنالی ہے۔دکھانے کے لئے ایک عمارت کا حسن ہے، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔اس لئے میں نے امیر صاحب کو رستے میں بھی بار بار تاکید کی ، پھر تاکید کرتا ہوں اور آپ سب کو تاکید کر رہا ہوں کہ ( بیوت الذکر) کی بڑائی کی طرف، ان کی ظاہری عظمتوں کی طرف ، ان کے ظاہری حسن کی طرف اگر توجہ اس لئے دی جائے کہ نمازی تو آتے ہیں مزید یہ بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، پھر کوئی نقصان نہیں۔لیکن اگر بیوت الذکر ) میں نمازی نہ ہوں تو ہزار ان کو آراستہ کر دیں ان ( بیت الذکر ) کا کوئی فائدہ نہیں اور پھر ایسی (بیوت الذکر ) بڑے اجتماعات کے کام تو آسکتی ہیں، جیسے یہ ( بیت الذکر ) آتی ہے، مگر روزمرہ ہمارے مختلف جگہ پھیلے ہوئے نمازیوں کے کسی کام نہیں آسکتیں۔اس وجہ سے میں نے ہدایت کی ہے کہ آپ سب کو آج تاکید کر رہا ہوں کہ اگر اس ہدایت پر عمل نہ ہو تو آپ عمل کروائیں۔نگران ہوں اس بات کے کہ اس ہدایت پر لازما عمل ہوتا ہے۔آخری بات یہ بیان فرمائی ” وَ مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُوْنَ “ پھر جو کچھ ہم ان کو دیتے ہیں وہ اس میں سے لازماً خرچ کرتے ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کو وہ صلاحیتیں عطا ہوں اور وہ خرچ نہ کریں۔ان کی صلاحیتوں میں سے انسان کی توجہات ہیں اور انسان کو خدا تعالیٰ نے جو بھی نعمتیں جس رنگ میں عطا فرمائی ہیں، رشتے ہیں ، اموال ہیں، ذہنی اور قلبی طاقتیں ہیں۔یہ سب کچھ مِمَّا رَزَقْنهُمْ میں داخل ہیں، اس کو 660 خرچ کرتے ہیں۔خرچ کرنے میں یہ بیان نہیں فرمایا کہ کس پر خرچ کرتے ہیں؟ اس لئے اس مضمون کو کھلا چھوڑ کر اس آیت میں بے انتہاء معانی داخل فرما دیئے ہیں۔سب سے پہلی چیز ، وہ اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ اس مضمون کو کھولا ہے کہ تم اپنے نفس کے لئے خیر خرچ کرو یعنی ایسا خرچ کرو جس کا تمہارے نفسوں کو فائدہ پہنچے۔پس اپنے لئے بھی خرچ کرنا خدا کی خاطر خرچ کرنا ہے، اگر ان شرائط کو پورا کریں۔پس اپنی سب چیزوں کو خدا