مشعل راہ جلد سوم — Page 566
566 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بہت سے ایسے خاندان ہیں جن سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان میں خصوصیت کے ساتھ الیفر و امریکن خاندانوں نے اکثر تربیت ہی کے متعلق سوال کئے۔کیونکہ وہ ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوئے ہیں جس ماحول نے ان کے بچوں تک گہرا اثر کر رکھا ہے۔چنانچہ اس ماحول سے الگ ہو کر اسی ماحول کی تربیت کرنا جس میں وہ پیدا ہوئے ایک بہت ہی مشکل مسئلہ ہے۔چنانچہ کل بھی سوال و جواب کی مجلس میں ایک مخلص احمدی دوست نے یہی توجہ دلائی کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم کیا کریں۔کچھ ایسی باتیں ہیں جو بچپن سے شروع ہو جاتی ہیں اور بچپن ہی میں ان کی بنیاد ڈالنی ضروری ہے۔میں سب سے پہلے انہی کی طرف آپ کی توجہ منعکس کرتا ہوں۔کیونکہ جب تک بچوں کی نسل کو سنبھالا نہ جائے آئندہ کے متعلق کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اسی طرف اشارہ فرمارہی ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور کل پر نظر رکھو کہ تم کل کے لئے کیا آگے بھیج رہے ہو۔آج کے بچے کل کی نسلیں ہیں پس آج کے بچے کل کی نسلیں ہیں جنہوں نے آج کا احمدیت کا پیغام انگلی صدی میں منتقل کرنا ہے۔بچوں کی طرف تربیتی نقطہ نگاہ سے توجہ دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ ماں باپ جو بچوں کی تربیت کرتے ہیں خود ان کی بھی تربیت ہوتی ہے اور لازم ہے کہ وہ اپنی تربیت اپنے بچوں کے حوالے سے کریں۔تو پہلی بات جو بچوں کے تعلق میں خصوصیت سے یہاں کے ماحول میں بتانی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ماں باپ کے لئے لازم ہے کہ بچپن ہی سے اپنے بچوں کا تعلق اپنے ساتھ بڑھائیں اور ایسے خاندان بنا ئیں جن میں نگاہیں اندر کی طرف اٹھنے والی ہوں اور بچوں کو گھر کے ماحول میں سکون ملے۔وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سختی سے بچوں کو دبانے کے نتیجے میں اگر اس عمر تک جب تک وہ ان کے ماتحت ہیں ان میں کوئی خرابی پیدا ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، تو وہ غلطی پر ہیں۔چونکہ بہت سے بچے اپنے ماں باپ کے حکم کی تعمیل میں یا ان کی سختی سے ڈر کر بسا اوقات اپنے دل کی خواہشات کو دبائے رکھتے ہیں اور جب وہ سوسائٹی میں کھل کر باہر جاتے ہیں تو وہ خواہشات ایک ایسے ماحول میں پنپنے لگتی ہیں جو ان کے لئے سازگار ہے۔ہر بدی کا خیال، ہر اس لذت کی تمنا جو جلدی حاصل کی جاسکتی ہے امریکہ کی سوسائٹی میں