مشعل راہ جلد سوم — Page 561
561 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دیواریں کسی حد تک اونچی کی جائیں۔ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو ضرور قائم کر کے دکھانا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جگہ جگہ بیک وقت ( بیوت الذکر ) اونچی ہونی شروع ہو جائیں گی اور ان ( بیوت الذکر ) کی برکت سے آپ کی کایا پلٹ جائے گی۔پھر آپ میں مختلف قوموں کے لوگ ہیں، ان کی بھی کمیٹیاں بنا ئیں۔ان کو کہیں کہ (بیت الذکر ) کے اتنے عظیم کام سے آپ کو ہم نے محروم نہیں رکھنا۔آپ اپنے اپنے طور پر اپنے اپنے دائرے میں کوششیں شروع کر دیں اور کوئی ( بیت الذکر ) جرمنی میں بوسنیا کے نام پر بنائی جارہی ہو ، کوئی ( بیت الذکر ) جرمنی میں Albanians کے نام پر بنائی جارہی ہو، کوئی کوسوو کے Ethnic Bosnian کے نام پر، کوئی افریقنوں کے نام پر ترکوں کے نام پر، جنہوں نے یہاں پر پناہ لی ہوئی ہے تو اس قسم کے جو Ethnic Groups ہیں وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہو جائیں اور کسی ( بیت الذکر) کا نام ترکی کے نام پر ہوتر کی کو دعائیں بھیجنے کیلئے کسی (بیت الذکر ) کا نام Bosnians کے نام پر ہو۔ہم نے جو وہاں( بیوت الذکر ) بنانی ہیں وہ الگ بات وہ ساری دنیا کی جماعت کی ذمہ داری ہے اور میں نے بوسنیا والوں سے کہہ دیا ہے کہ آپ یہ جھگڑا نہ کریں کہ پہلی کون بناتا ہے اور دوسری کون بناتا ہے۔جو دو( بیوت الذکر ) آپ نے سوچی ہیں دونوں شروع کر دیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا بھر کی جماعتوں کی طرف سے آپ کو پوری مالی تائید حاصل ہوگی۔تو ایک تو مقامی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا یہ لازم ہے اور اس میں وقار عمل بھی آپ کا شامل ہو، اینٹیں جو ڈھوئی جاتیں ہیں وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو یاد کر کے ابراہیم علیہ السلام کو یاد کر کے ان کے نام پر ان اینٹوں کو اور پتھروں کو اٹھا ئیں اور دوسری جگہ پہنچا ئیں تو دیکھیں تو حید کا کیسا منظر پیدا ہوگا۔ایسا عظیم الشان منظر تو حید کا اس زمانے میں پیدا ہوگا کہ دنیا کی آنکھیں خیرہ ہوں گی اور خیرہ ہوتی رہیں گی۔آنے والی نسلیں مڑ کر آپ کو دیکھا کریں گی اور کہیں گی یہ تھے تو حید کے علمبردار جنہوں نے دیکھو کتنے تھوڑے سے عرصے میں کتنے عظیم الشان کام کر دکھائے۔پھرانہی بچوں سے میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ جھوٹ کے خلاف یہ بھی ایک علم جہاد بلند کریں۔ان بچوں میں میں نے نسبتاً زیادہ سچائی دیکھی ہے۔کیونکہ جو پہلی نسلوں کے لوگ ہیں بعض عادتا جھوٹ بولتے ہیں۔ایسے علاقوں سے آئے ہیں جن کے خاندانوں میں ماحول کی خرابی کی وجہ سے اور آپ کو اندازہ نہیں کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں ماحول کتنا جھوٹ سکھاتا ہے۔آپ کے ہاں تو بڑی بڑی باتوں میں آکر بڑی ہوشیاریوں سے جھوٹ بولے جاتے ہیں ، وہاں تو گلیوں میں روز مرہ جھوٹ ہی جھوٹ ہے اور اب تو اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کے تصور سے بھی انسان کا حوصلہ ٹوٹتا ہے کہ کیا یہ ملک پھر سچائی کا منہ دیکھ سکے گا یا نہیں دیکھ