مشعل راہ جلد سوم — Page 549
549 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہیں جو والد کا ( رفیق) ہونا بتا ئیں مگر دادا کا اور پڑدادا کا بتاتے ہیں اور بڑے فخر سے ذکر کرتے ہیں لیکن ایسی ملاقاتوں کے وقت میرا یہ کام تو نہیں کہ ان سے پوچھوں کہ کیا تم میں بھی ( رفقاء) کے کوئی آثار پائے جاتے ہیں یا نہیں۔مگر جس طرح فخر کیا جاتا ہے اس فخر کا تقاضا یہ ہونا چاہیے۔میں نہ پوچھوں آپ تو پوچھا کریں، آپ تو اپنے دل سے پوچھا کریں کہ ہم جن اعلیٰ اخلاق والے صاحب کردار لوگوں کی نسل ہیں جنہوں نے وقت کے امام کو قبول کیا اور باوجود اس کے قبول کیا کہ ان کے والدین نے ، ان کی سوسائٹی نے ،ان کے خاندان نے ،سب نے اس کو رڈ کر دیا تھا۔کیوں قبول کیا تھا ؟ اس لئے کہ ان کے دل اس یقین سے بھر گئے تھے کہ یہ نمائندہ خدائے واحد ویگانہ کا نمائندہ ہے۔پس اللہ کے حضور انہوں نے سر جھکا دیے اور غیر اللہ کی نفی کر دی۔پس امام وقت کو قبول کرنا درحقیقت تو حید کے سامنے سرخم کرنا ہوا کرتا ہے۔ان لوگوں کی نسل سے ہوتے ہوئے کیا آپ نے غیر اللہ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا ہے۔کیا آپ بھی روز مرہ کی زندگی میں صرف اُس ایک خدا کے حضور سر جھکاتے ہیں جس کے سامنے آپ کے باپ دادا نے سر جھکائے تھے؟ اگر نہیں تو پھر قرآن کریم کا یہ فتویٰ ہے کہ اُولئِكَ هُمُ الفَسِقُونَ یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق ہیں یا فاسق ہو جائیں گے۔ان کے خدا سے ہٹتے ہوئے دور ہونے کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔یعنی کچھ نہیں کہا جا سکتا میری طرف سے الفاظ ہیں معنے یہ ہیں اگر یہ لوگ تبدیلی پیدا کریں اگر ان کے اندر ایک فیصلے کا دن آجائے وہ فیصلے کا دن جس میں یہ اقرار کریں کہ اے خدا! ہم تیرے سوا اب کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔وہ فیصلے کا دن آجائے جس میں ان کی نمازیں بول اٹھیں کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔اے ہمارے رب صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تیری عبادت کریں گے۔وَايَّاكَ نَسْتَعِينُ اور تیرے سوا کسی اور سے مدد نہیں مانگیں گے۔وہ ایک دن آپ کے زندہ ہونے کا دن ہو گا وہ ایک دن آپ کی ذات میں توحید کے قیام کا دن ہوگا اور اس کے نتیجے میں آپ کے اخلاق کی کایا پلٹ جائے گی۔جب خدا کو خدا مانیں گے اور اپنی بندگی کا اقرار کریں گے، اپنی ذات میں کسی حسن کو کسی خوبی کو کسی طاقت کو نہیں دیکھیں گے تو لوگوں کے سامنے جھک کر چلیں گے۔جیسا قرآن کریم فرماتا ہے هَونًا عَلَى الْأَرْضِ یہ اللہ کے پاک بندے زمین پر نرمی سے چلتے ہیں تکبر سے نہیں چلتے۔رفتہ رفتہ ان میں سے ایسے ہیں جو اس طرح اپنی عاجزی میں غرق ہو جاتے ہیں کہ زمین پر ہر قدم جو پڑتا ہے وہ ان کے دل پر چوٹ لگاتا ہے کہ میں کون ہوں اس زمین پر اس طرح اس کو روندتے ہوئے چلنے والا۔یہ وہ خدا کے بندے ہیں جو توحید میں غرق ہوتے ہوتے توحید میں پنہاں ہو جاتے ہیں اور پھر ان سے خدا کے وہ بندے اٹھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ دوبارہ دنیا میں توحید کے قیام کے لئے ہدایت