مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 548

مشعل راه جلد سوم 548 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی لئے میں ان کا حوالہ دیئے بغیر ان آیات کی روح آپ کے سامنے رکھتا ہوں قرآن کریم کی جو آیات آپ کے سامنے تلاوت کی گئیں تھیں ان میں یہی پیغام تھا۔یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر : 19) اے وہ لوگو جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا جو ایمان لائے ہو اور تقویٰ کا دعویٰ رکھتے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ اور اس بات پر نظر رکھو کہ آنے والے کل کیلئے تم کیا چھوڑ کر جارہے ہو۔اگر آنے والی نسلیں ویسی ہی بنیں گی جیسی تم ہو تو پھر تم واقعی متقی شمار ہو گئے۔لیکن اگر تمہارے تقویٰ کی کمی کی وجہ سے اگلی نسلیں تم سے پھٹ گئیں تو پھر تم توحید پر قائم نہیں رہو گے پھر تم فاسق شمار ہو گے۔ولَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَهُمْ أَنْفُسَهُمُ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔ایسے لوگوں کی طرح نہ بنا جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے کمائے ہوئے خدا کو بھلا دیا۔اب یہ لفظ کمائے ہوئے کا جو محاورہ ہے یہ تو اس میں موجود نہیں مگر ان آیات کا مطالعہ کر کے دیکھیں تو یہی مضمون ابھرتا ہے۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَانْسَهُمُ انْفُسَهُمُ کیونکہ وہ لوگ جو خود خدا کو یاد کرتے ہیں یعنی انبیاء کے تربیت یافتہ لوگ وہ خدا کو بھلایا نہیں کرتے۔کوئی بھی جو سچائی کے ساتھ کسی خوبصورتی کا قائل ہوا کرتا ہے اس کو از خود بھلایا نہیں کرتا۔آپ اپنے روز مرہ کے تجربے میں دیکھیں جو چیز آپ کو پیاری لگتی ہے اسی کو یاد کرتے ہیں اور جو چیز پیاری نہیں لگی وہ یاد بھی آئے تو ماتھے پر بل پڑنے لگتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ ایسے نہ بننا کہ جنہوں نے اللہ کو یا درکھا تھا اور پھر تم ان کی نسل سے ہوتے ہوئے اس خدا کو بھلا بیٹھے۔یعنی خدا میں جو حسن انہوں نے دیکھا تھا وہ تم نے نہیں دیکھا۔خدا سے جو تعلق ان لوگوں نے قائم کیا تھاوہ تم نہیں کر سکے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر میں نے آپ کو آپ کے آباؤ اجداد کا حوالہ دیا۔اگر چہ میں نے یہ کہا کہ بہت ایسی آیات ہیں جن کی تفسیر میں میں نہیں جاتا مگر یہ وہ آیات تھیں جن کی تلاوت آپ کے سامنے ہوئی تھی۔اس لئے ان کے حوالے سے میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ مضمون ان میں یہی بیان ہوا ہے کہ خدا جب ایک دفعہ یاد کیا جائے تو اس لائق نہیں کہ اسے بھلا دیا جائے۔وہ تو ایسی ذات ہے جس سے پیار بڑھا کرتا ہے جس سے تعلق دن بدن فزوں تر ہوتا ہے۔پہلے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس ایسے خدا کو یاد کر کے پھر ایسی نسلیں پیچھے چھوڑ جاؤ جو اس کو بھلا دیں، بہت بڑا ظلم ہے اور یہیں سے شرک شروع ہوتا ہے۔پس آپ لوگ اس پہلو سے بھی اپنی توحید کا جائزہ لیں۔آپ میں کچھ ایسے ہیں ملاقات کے وقت کہتے ہیں ہمارے پڑدادا ( رفیق) تھے کوئی کہتا ہے ہمارا دادا (رفیق) تھا، اور بعض یہ بھی بتانے والے ملتے ہیں کہ ہمارے والد ( رفیق ) تھے مگر ایسے کم ہورہے