مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 466

مشعل راه جلد سوم 466 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی اُسے کہا جائے کہ اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور جن کے حوصلے بلند ہوں وہ پھر بڑے ہوکر بڑے نقصان برداشت کرنے کے بھی زیادہ اہل ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ آفات سماوی پڑتی ہیں اور دیکھتے دیکھتے انسان کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔جن کو چھوٹی چھوٹی باتوں کا حوصلہ نہ ہو وہ ایسے موقعوں پر پھر خدا سے بھی بدتمیز ہو جاتے ہیں اور بے حوصلگی کے ساتھ خود غرضی کا ایک ایسا گہرا رشتہ ہے کہ اس خود غرضی کے نتیجے میں ہر دوسری چیز اپنی تابع دکھائی دینے لگتی ہے اگر وہ فائدہ پہنچا رہی ہے تو ٹھیک ہے۔ذرا سا بھی نقصان کسی سے پہنچے تو انسان حوصلہ چھوڑ بیٹھتا ہے اور جب بندوں سے بے حوصلگی شروع ہو تو بالآخر انسان خدا سے بھی بے حوصلہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ گر سمجھایا کہ من لَا يَشْكُرِ النَّاسَ لَا يَشْكُرِ الله (ابن عساکر بحوالہ کنز العمال جلد ۳ حدیث نمبر ۶۴۸۲) کہ جو بندے کا شکر ادا کرنا نہ سیکھے وہ خدا کا کہاں کر سکتا ہے۔جو بندے کا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی نہیں کرتا۔یہ جو گہرا فلسفہ ہے یہ ہم روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔حوصلے پر بھی اسی بات کا اطلاق ہوتا ہے۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ یہ معمولی بات نہیں۔بڑے ہو کر اس کے بہت بڑے بڑے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں وہ نقصان جس میں انسان بے اختیار ہو اس پر صبر کا نام حوصلہ ہے۔نقصان کی طرف طبیعت کا میلان ہونا یہ حوصلہ نہیں ہے۔یہ بے وقوفی ہے۔جہالت ہے اور بعض صورتوں میں یہ خود ناشکری بن جاتا ہے۔اس لئے بچوں کو جب حوصلہ سکھاتے ہیں تو چیزوں کی قدر کرنا بھی سکھائیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔یہاں انگلستان میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ پانی کا نقصان اور Heat گرمی کا نقصان۔یہ دوائیسی چیزیں ہیں جو قوم میں عام پائی جاتی ہیں۔کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ہمارے خود پاکستان سے یہاں آکر جو بسنے والے ہیں، بے ضرورت ہیٹر جلاتے ہیں۔بے ضرورت آگ جلتی رہتی ہے۔اس کے اوپر پھیلی ہو یا نہ ہو، عورتیں پرواہ نہیں کرتیں۔بے ضرورت پانی بہتے رہتے ہیں۔اس سے بہت کم میں انسان اپنی ضرورت کو پوری کر سکتا ہے اور قومی طور پر جو فائدہ ہے وہ تو ہے لیکن بنیادی طور پر ہر انسان کو ان باتوں کی طرف توجہ دینے کے نتیجے میں اپنی اخلاقی تعمیر میں مددملتی ہے اور اس سے بچوں کی تربیت میں بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔بجلیوں کو دیکھ لیجئے۔میں نے دیکھا ہے کہ گھروں میں لوگ بے وجہ بجلیاں جلتی چھوڑ جاتے ہیں۔ریڈیو آن کیا ہے یا ٹیلی ویژن آن کیا ہے تو کمرے سے چلے گئے اور خالی کمروں میں بجلیاں بھی جل رہی ہیں۔ریڈیو آن ہیں یا ٹیلی ویژن آن ہیں۔کئی دفعہ میں اپنے گھر میں اپنے بچوں سے کہا کرتا ہوں کہ ہمارے گھر میں جن ہیں کیونکہ میں کمرے میں گیا وہاں بجلی جل رہی تھی اور ٹیلی ویژن چلا ہوا تھا۔معلوم ہوتا ہے کوئی