مشعل راہ جلد سوم — Page 465
مشعل راه جلد سوم 465 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی کا ایک بہت ہی قیمتی مقالہ جو آپ نے تحریر فرمایا تھا اور اس کو طباعت کے لئے تیار فرمایا تھا، وہ آپ نے کھیل کھیل میں جلا دیا اور سارا گھر ڈرا بیٹھا تھا کہ اب پتہ نہیں کیا ہوگا اور کیسی سزا ملے (لیکن ) جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا: کوئی بات نہیں۔خدا اور توفیق دے دے گا۔حوصلہ اپنے عمل سے پیدا کیا جاتا ہے اور ماں باپ جن کے دل میں حوصلے نہ ہوں ، وہ اپنے بچوں میں حوصلے نہیں پیدا کر سکتے۔اور نرم گفتاری کا بھی حو صلے سے بڑا گہرا تعلق ہے۔چھوٹے حوصلے ہمیشہ بدتمیز زبان پیدا کرتے ہیں۔بڑے حوصلوں سے زبان میں بھی تحمل پیدا ہوتا ہے اور زبان کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔پس محض زبان میں نرمی پیدا کرنا کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ حوصلہ بلند نہ کیا جائے اور وسیع حوصلگی جماعت کے لئے آئندہ بہت ہی کام آنے والی چیز ہے جس کے غیر معمولی فوائد ہمیں اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی نصیب ہو سکتے ہیں لیکن وسیع حوصلگی کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نقصان کو برداشت کیا جائے اور نقصان کی پرواہ نہ کی جائے۔یہ ایک فرق ہے جو میں کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اس کو سمجھ کر ان دونوں باتوں کے درمیان توازن کرنا پڑے گا۔ہمیں چاہیے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ضائع نہ ہو نقصان ایک بُری چیز ہے۔اگر نقصان کا رجحان بچوں میں پیدا ہو تو ان کو سمجھانا اور عقل دینا اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں وہ ہمارے فائدے کے لئے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی نقصان نہ ہو۔وضو کرتے وقت پانی کا بھی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔منہ ہاتھ دھوتے وقت پانی کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔صرف ایک پانی ہی کو لے لیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہماری قوم میں اور بعض ترقی یافتہ قوموں میں بھی نقصان کا کتنا رجحان ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ ٹوٹیاں کھول کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ گرم پانی یا ٹھنڈا پانی، جیسا بھی ہے وہ اکثر ضائع ہورہا ہے اور بہت تھوڑا ان کے کام آ رہا ہے۔حالانکہ پانی خدا تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر کرنا ضروری ہے اور قطع نظر اس سے کہ اس سے آپ کا مالی نقصان کیا ہوتا ہے یا قوم کا مجموعی نقصان کیا ہوتا ہے، یہ بات ناشکری میں داخل ہے کہ کسی نعمت کی بے قدری کی جائے تو حو صلے سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ نقصان کی پرواہ نہ کرنے کی عادت ڈالی جائے۔یہ دو باتیں پہلو بہ پہلو چلنی چاہئیں۔حوصلے سے مراد یہ ہے کہ اگر اتفاقا کسی سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس پر برداشت کیا جائے اور