مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 460

460 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم یہی تو خوشخبری ہے جس کو پورا ہوتے دیکھ کر ہمارے ایمان پھر زندہ ہوئے ہیں۔پس بہت ہی اہم بات ہے۔ہم نے آخرین ہو کر، قرآن کریم کی اس پیشگوئی کا مصداق بنتے ہوئے قطعی طور پر یہ دیکھ لیا اور دنیا پر ثابت کر دیا کہ زمانے کی دوری کو اخلاقی قربت کے ذریعے مٹایا جاسکتا ہے اور نیک اعمال کے نتیجے میں زمانے کے فاصلے ماضی میں بھی طے ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں بھی طے ہو سکتے ہیں۔پس اس پہلو سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر صدی کے قدم پر یہ دیکھیں کہ ہمارا قدم پچھلی صدی کے ساتھ ملا ہوا ہے یا نہیں اور ہمارا اخلاقی اور عملی فاصلہ کہیں بڑھ تو نہیں رہا۔پس آگے بڑھنا دوطرح سے ہوگا۔ایک زمانے میں آگے بڑھنا۔وہ تو ایسی مجبوری ہے جس پہ کسی کا کوئی اختیار نہیں اور ایک آگے بڑھنا یہ بھی ہوسکتا ہے جیسے قو میں بظاہر آگے بڑھتی ہیں لیکن بنیادی طور پر انحطاط کا شکا رہو جاتی ہیں۔اخلاقی قدروں کے لحاظ سے انحطاط کا شکار ہو جاتی ہیں۔وہ آگے بڑھنا تو تنزل کی علامت ہے۔ہم نے اس پہلو سے آگے نہیں بڑھنا بلکہ واپس جانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جوسب سے بڑا معجزہ دکھایا۔جو سب سے بڑا عظیم الشان کارنامہ کر کے دکھایا۔وہ واپسی کا کارنامہ ہے۔آگے بڑھنے کا کارنامہ نہیں۔تیرہ سو سال کے فاصلے حائل تھے۔کس طرح ایک ہی جست میں آپ اس زمانے میں جا پہنچے جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا۔پس ہر صدی کی زمانی جست کے ساتھ ہمیں واپسی کی ایک جست بھی لگانی ہوگی اور بڑے معین فیصلے اور بڑے قطعی فیصلے کے ساتھ ایسا پروگرام طے کرنا ہوگا کہ جب ہم وقت میں آگے بڑھیں تو اخلاقی اور اعمالی قدروں میں واپس جارہے ہوں۔اس پہلو سے اس دور میں جب میں چاروں طرف دیکھتا ہوں تو جماعت کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اور بھی مسائل بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی رفتار ہر طرف پہلے سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔پس بڑی جماعتوں میں رفتار کا پھیلا ؤ جہاں مبارک بھی ہے وہاں خدشات بھی پیدا کرنے والا ہے اور فکریں بھی پیدا کرنے والا ہے۔اسی طرح بڑی جماعتوں میں نسل پھیلتی ہے۔تولید کے ذریعے جماعتیں بڑھتی ہیں۔اس پہلو سے بھی ساتھ ہی تربیتی فکر میں بڑھنے لگتی ہیں۔ذیلی تنظیمیں براہ راست خلیفہ وقت کے تابع ہیں۔پس جب میں نے مجلس خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ کو تمام ملکوں میں براہ راست اپنے تابع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس میں یہ ایک بڑی حکمت پیش نظر تھی تا کہ میں ان مجالس سے براہ راست ایسے کام لوں جن