مشعل راہ جلد سوم — Page 432
432 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم نہیں کریں گے کہ ان کا مزاج دن بدن ( دین حق) کے قریب آ رہا ہے۔ان کے تکبر ٹوٹ رہے ہیں۔انسان اور انسان کے درمیان جو نفرت کی دیواریں تھیں وہ بہت سی جگہ کم ہو رہی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ نوجوان ایک نئی دنیا ایک نئے نظام کی تلاش میں ہیں۔پس اس پہلو سے ان سے جماعت احمدیہ کا وسیع پیمانے پر رابطہ ضروری ہے اگر آپ نے ایسا نہ کیا ، اگر ایسا کرنے میں آپ نے دیر کر دی تو بعض دوسری تنظیمیں جو وقتی طور پر چمک دمک رکھتی ہیں، ایک عارضی کشش رکھتی ہیں وہ ان کی توجہ کو اپنی طرف سمیٹ لیں گی۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ابھی بھی ہرے کرشنا تحریک کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں۔کئی ان میں سے بدھسٹ ہورہے ہیں۔کئی اور کئی قسم کے مشرقی مذاہب کی جستجو کر رہے ہیں۔کسی کو اگر اور دلچسپی ( دین حق ) میں نہ بھی نظر آئے تو صوفی ازم کی طرف ان کا میلان نمایاں نظر آ رہا ہے۔ہرایسی چیز کی تلاش میں ہیں جن سے اپنا حال اور اپنے ماحول کو بھلا کر کسی خیال میں گم ہو جائیں۔اگر آپ مزاج شناسی کی اہلیت رکھتے ہوں تو آپ یقیناً اس بات کی تصدیق کریں گے کہ یہ اس وقت بھاگنا چاہتے ہیں ،شعور سے بھاگنا چاہتے ہیں، اب باہر کی دھوپ سے بھاگنا چاہتے ہیں اور بھا گنا چاہتے ہیں کسی ایسی جگہ جس کا علم ان کو نہیں مگر سمجھتے ہیں کہ ہم تھک چکے ہیں دنیا کی پیروی سے۔ہمیں اطمینان چاہیے اور وہ اطمینان ان فرضی اطمینان گاہوں میں حاصل کر رہے ہیں جن کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا ہے۔لیکن لمبا عرصہ تک یہ تحریکات یہ نظریات ان کے دلوں کو مطمئن نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک سطحی کشش ہے۔ان باتوں میں گہرائی کوئی نہیں۔ہرے کرشنا میں اگر کوئی کشش ہے تو یہی کہ چھٹے بجا کر اور گانے کے ذریعے ان کے اندر جو بعض تمدنی رجحانات پائے جاتے ہیں ان کی وہ تسکین کریں اور دوسری ذمہ داریوں سے ان کو آزاد کریں اور وقتی طور پر ایک قسم کے نشہ میں مبتلا ہو کر یہ سمجھیں کہ ہم نے اپنے لئے جنت حاصل کر لی ہے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ان کا شعور بھی بیدار ہو رہا ہے ایک پہلو سے ان کے اندر منطق کی قوتیں جس طرح آج روشن ہیں اس سے پہلے کبھی روشن نہیں ہوئی تھیں۔اس لئے زیادہ دیر تک ایک بے دلیل جنت میں یہ ہ نہیں سکتے ان کو مطمئن کرنے کے لئے ( دین حق کی منطق کی ضرورت ہے، ایک ایسی منطق جو دل اور دماغ کے درمیان فاصلے دور کر دے جہاں سوچ اور جذبات ایک ہی ساتھ دھڑکتے ہوں اور جہاں خدا کے قول اور خدا کے فعل میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔یہ وہ چیز ہے جو ( دین حق ) کے سوا کسی مذہب میں اس وقت موجود ہے نہ کوئی مذہب اس پہلو سے ( دین حق ) کے قریب تر پہنچا ہے۔