مشعل راہ جلد سوم — Page 386
مشعل راه جلد سوم 386 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالی جب ان باتوں کو آپ غور کی نظر سے دیکھیں گے تو پھر ان کی نمازوں کی حالت کو بہتر اور بہتر بنانے کی کوشش کرتے چلے جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بعض پچھلے خطبات میں حضرت بانی سلسلہ کے اقتباسات پڑھ کر سنائے اور بڑی تفصیل سے مضمون کی گہرائی میں جا کر آپ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ نماز کا آغاز محض وہ مقصد نہیں ہے جس سے ہم ہمیشہ کی زندگی پاسکتے ہیں نماز کے آغاز کے بعد پھر آگے لامتناہی مراحل ہیں جو مسلسل جاری رہیں گے اور اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں ہے۔دنیا کا کوئی عبادت کرنے والا عبادت میں اپنے آخری مقام کو نہیں پاسکتا جب تک وہ اس مضمون کو نہ سمجھے کہ جس کی عبادت کی جاتی۔اس کا کوئی آخری مقام نہیں ہے اور جب اس مضمون کو وہ سمجھ جاتا ہے تو پھر آخری منزل جس کی کوئی منزل نہیں، یعنی خدا تعالیٰ کی طرف مسلسل اور پیہم حرکت کا نام ہی نمازوں کی تعمیل یا نماز کے مقاصد کا حصول بن جاتا ہے۔اس سے یہ راز ہمیں سمجھ آگیا کہ وہ نماز جو ایک حالت پر ٹھہر جاتی ہے وہ زندہ نماز نہیں رہتی۔وہ نماز جس کی حالت آگے بڑھنے سے رُک جاتی ہے وہ یقینا زندگی کے پانی سے محروم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔عبادت ایک ایسا مضمون ہے جس میں کوئی ٹھہراؤ نہیں ہے چنانچہ جب اس پہلو کو خوب سمجھنے کے بعد آپ اپنی اولاد کی طرف متوجہ ہوں گے تو آپ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوں گے۔پھر آپ کو حضرت بانی سلسلہ کے اس شعر کا مضمون سمجھ میں آئے گا کہ ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے پھر آپ کو قدم آگے بڑھانے پڑیں گے تاکہ آپ کی اولا د آپ کے پیچھے پیچھے اپنے قدم بڑھائے پھر یہ مضمون یک طرفہ نصیحت کا مضمون نہیں رہے گا آپ خوب سمجھ لیں گے اور اس بات کا عرفان حاصل کر لیں گے کہ آپ کو ہمیشہ اپنی نمازوں کی حالت کو پہلے سے بہتر بنانا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی اولا دکو اپنے پیچھے چلنے کے اشارے کرنے ہوں گے۔اپنے پیچھے چلے آنے کی تلقین کرنی ہوگی اور نمازوں کے جو پھل آپ حاصل کریں گے ان پھلوں میں اپنی اولاد کو شریک کرنا ہوگا اس طرح ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ کوئی محض دکھاوے کا بوٹا نہیں یہ وہ پھلدار درخت ہے جسے واقعہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں اور اس کے قرب اور اس کے پیار کے پھل لگتے ہیں۔پھر یہ نمازیں شمر دار ہو جائیں گی پھر یہ نمازیں ہمیشہ نشو ونما پاتی رہیں