مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 378

378 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم احمدیہ کا ایک طبقہ ایسا ہے جو ابھی تک نماز کی ابتدائی حالتوں پر بھی قائم نہیں ہو سکا۔انگلستان میں بھی میں نے عمومی جائزہ لیا اور بعض خاندانوں سے تفصیلی گفتگو بھی کی ان کے بچوں کے حالات معلوم کئے تو مجھے یہ دیکھ کر بہت تکلیف پہنچی کہ ہم ابھی تک نماز کے سلسلے میں اپنی نسلوں کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکے اور یہی وہ امر ہے جو میرے لئے پہلی صدی کے آخر پر سب سے زیادہ فکر کا موجب بن رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا اگر جماعت احمد یہ انگلی صدی میں اس حال میں داخل ہو کہ ہماری انگلی نسلیں نماز سے غافل ہوں۔یہ ایک ایسی فکر انگیز بات ہے اور ایسی قابل فکر بات ہے کہ جب تک ہر دل میں اس کی فکر پیدا نہ ہو میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہیں ہوسکا۔اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود جس رنگ میں یہ فکر دلوں میں پیدا کرنی چاہتا ہوں میں دیکھ رہا ہوں کہ اس رنگ میں یہ فکر بہت سے دلوں میں پیدا نہیں کر سکا۔جماعت کا عمومی اخلاص کا معیار بلند ہوا ہے اور اس کی حفاظت کا طریق جہاں تک جماعت کے عمومی اخلاص کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ابتلاء کے موجودہ دور میں جماعت کے اخلاص کا عمومی معیار بہت بلند ہوا ہے اور نیک کاموں میں تعاون کی روح میں ایک نئی جلا پیدا ہوگئی ہے۔ایک آواز پر لبیک کہنے کے لئے کثرت کے نئی ساتھ دل بے چین ہیں جب بھی جماعت کو نیکی کی طرف بلایا جاتا ہے جس طرح اخلاص کے ساتھ اس آواز پر جماعت لبیک کہتی ہے اس سے میرا دل حمد سے بھر جاتا ہے۔لیکن یہ اخلاص فی ذاتہ کچھ چیز نہیں اگر اس اخلاص کے نتیجے میں خدا تعالیٰ سے ایک مستقل تعلق پیدا نہ ہو جائے۔یہ اخلاص اپنی ذات میں محفوظ نہیں۔اگر اس اخلاص کو نماز کے اور عبادت کے برتنوں میں محفوظ نہ کیا جائے اس لحاظ سے یہ اخلاص ایک آنے جانے والے موسم کی شکل اختیار کر سکتا ہے بعض دفعہ سخت گرمیوں کے بعد اچھا موسم آتا ہے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے آتے ہیں بعض دفعہ سخت سردی کے بعد خوشگوار موسم کے دور آتے ہیں لیکن یہ چیزیں آنے جانے والی ہیں ٹھہر جانے والی نہیں عبادت کوئی موعی کیفیت کا نام نہیں۔عبادت ایک مستقل زندگی کا رابطہ ہے۔عبادت کی مثال ایسی ہے جیسے ہم ہوا میں سانس لیتے ہیں کئی قسم کے زندہ رہنے کے طریق ہیں جو انسان کو لازم کئے گئے ہیں مگر ہوا اور سانس کا جو رشتہ زندگی سے ہے ایسا مستقل ، دائگی ، لازمی اور ہرلمحہ جاری رہنے والا رشتہ اور کسی چیز کا نہیں۔پس عبادت کو یہی رشتہ انسان کی روحانی زندگی سے ہے۔یہ عبادت ذکر