مشعل راہ جلد سوم — Page 354
354 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم واقعہ یہ ہے کہ یہ خراج تحسین دراصل جمعہ کی Institution کو تھا۔جمعہ کے ذریعہ یہ ساری تربیت ہوتی تھی ہر جمعہ پر شوق سے بڑی دور دور سے لوگ اکٹھے ہو کر آیا کرتے تھے ، ( بیت الذکر ) بھر جاتی تھی۔گنجائش سے زیادہ لوگ جو ( بیت الذکر ) میں سمانہیں سکتے تھے گلیوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔ہمارے گھر میں بھی صبح سے شام تک بچوں اور عورتوں کا اجتماع رہتا تھا۔( بیت الذکر ) کے ایک حصہ میں عورتوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی اس کے ساتھ ہمارا گھر ملا ہوا تھا۔ساتھ کا کوٹھا بھر جاتا تھا صحن بھر جاتا تھا اس سے پر لے صحن تک عور تیں پہنچ جایا کرتی تھیں۔چنانچہ سارا دن ہمارے گھروں میں کثرت کے ساتھ دوسرے لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔اس سے بچپن میں تکلیف بھی پہنچتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بعد میں عقل دی تو معلوم ہوا کہ یہ تو بڑی نعمت تھی جو ہمیں حاصل رہی۔اس سے زیادہ مبارک اور کیا تکلیف ہوسکتی ہے کہ خدا کے ذکر کی خاطر لوگ گھروں میں اکٹھے ہوں۔چنانچہ اس کی وجہ سے جماعت کی عام تربیت ایسی ہوئی ہے اور احمدی طلبہ کی ایسی تربیت ہوئی ہے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ دنیا کے ہر میدان میں وہ ترقی پانے کے زیادہ اہل ہو گئے یہاں تک کہ دشمن حسد کے مارے یہ کہنے لگ گیا کہ احمدیوں میں چالا کی یا کوئی ہوشیاری ہے یا طاقت ہے کہ اپنی تعداد کی نسبت سے زیادہ نوکریاں حاصل کر جاتے ہیں ، زیادہ برکتیں حاصل کر جاتے ہیں، دنیا کے مفادات زیادہ حاصل کر جاتے ہیں۔حالانکہ ان کو یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ جمعے کی برکتیں ہیں اور ایسے جمعے کی برکتیں ہیں جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ امامت کا نظام جاری ہو چکا ہے ، جہاں خلافت کا منصب قائم ہے۔ایسے جمعہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی برکتیں پڑتی ہیں۔جمعہ کے نظام سے غفلت ہلاکت کا موجب ہے قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہیں ان کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر کسی زمانے میں یہ ابتلاء آنا تھا کہ وہ جمعہ کے نظام سے غافل ہو جائیں گے اور یہ غفلت ایک بہت بڑی ہلاکت ہے کوئی معمولی ہلاکت نہیں ہے۔جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم فرمایا گیا ہے تاکہ وہ (مومنوں ) کو ان کی کھوئی ہوئی عظمتیں دوبارہ حاصل کر کے دے ان کو اس پہلے مقام تک پہنچائے جہاں سے وہ گر چکے ہیں۔لیکن جمعہ کے معاملہ میں میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس بات کے اہل ہیں کیونکہ ہم نے خود بھی وہ مقام ابھی کما حقہ حاصل نہیں کیا، اگر حاصل کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ کھو بیٹھے ہیں۔مغربی ممالک میں تو اس لحاظ سے جماعت احمدیہ کی نہایت ہی درد ناک حالت ہے۔اکثر احمدی بچے جمعہ پڑھنے نہیں آتے ، اکثر