مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 329

مشعل راه جلد سوم 329 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی سزاملنی چاہیے، یہ سارا محض فساد ہے۔اگر کوئی ایسا فریق جس کے متعلق کوئی شخص مدار سے ہٹ کر کارروائی کرتا ہے، جوا بابد تمیزی اختیار نہیں کرتا، گالی گلوچ سے کام نہیں لیتا عوام الناس میں پرو پیگنڈا نہیں کرتا بلکہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے بال منتظمین تک بات کو پہنچا دیتا ہے تو اس کا نام تصادم نہیں ہے۔اگر ایسا واقعہ ہو تو کوئی فساد آپ کو نظر نہیں آئے گا۔جس نے غلطی کی اس کی غلطی کے متعلق افسران تک پہنچائی جاتی ہے وہ اس کو درست کر لیتے ہیں اور کوئی ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔لیکن اگر ایک طرف سے بھی غلطی ہو رہی ہو۔اور دوسری طرف سے بھی غلطی ہو رہی ہو تو پھر یہ تفاوت بن جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں لازماً فتور پیدا ہوتا ہے۔اس لئے یک طرفہ غلطی بھی بری چیز ہے اس کے نتیجہ میں بھی نقصان پہنچ سکتے ہیں لیکن نظام تباہ نہیں ہوا کرتے۔اگر ٹکراؤ والی غلطی پیدا ہو جائے تو نظام تباہ ہو جایا کرتے ہیں۔مشین کے کل پرزوں پر آپ دوبارہ غور کریں ایک پرزہ اپنی ذات میں خراب ہو جاتا ہے موٹر کو اس سے بھی نقصان پہنچتا ہے لیکن ایک پرزہ جب دوسرے پرزے کی راہ میں اٹکتا ہے تو اس کا نقصان اس سے بہت زیادہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔اس سے دھما کہ پیدا ہوتا ہے۔اس سے تصادم پیدا ہوتا ہے اس لئے تفاوت کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے میری پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ اپنے مدار کو بہر حال نہ چھوڑیں اگر آپ اپنے مدار کو چھوڑیں گے تو تصادم کا بڑا بھاری احتمال موجود ہے۔چونکہ عوام الناس اکثر ان مضامین کو نہیں سمجھتے اس لئے آپ کے مدار چھوڑنے کے نتیجہ میں کوئی دوسرا بھی اپنے مدار کو چھوڑ دے گا اور جب وہ اپنے منصب سے ہٹ کر آپ سے ٹکرائے گا تو اس کے نتیجہ میں آپ دونوں کی بھی ہلاکت ہے اور نظام جماعت کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔اپنے اپنے دائرہ کار میں فرائض منصبی کی ادائیگی اور مجالس عاملہ کی ذمہ داریاں پہلی مثال کی طرف واپس آتے ہوئے میں اس پر مزید روشنی ڈالتا ہوں۔میاں بیوی کا جھگڑا ہوتا ہے مجلس عاملہ اس کے اوپر غور کرنے بیٹھ جاتی ہے اور خود ہی فیصلے کرتی ہے اور فیصلے صرف اس لحاظ سے نہیں کہ وہ نجی جھگڑے سے متعلق فیصلے ہوں کہ ان کو کیسے سلجھایا جائے۔افتاء کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے یکطرفہ باتیں سنتی ہے۔پھر ایک فریق کو موقع دیئے بغیر قضاء کا کام اس طرح کرتی ہے کہ وہ قضاء کے بھی منافی ہوتا ہے یعنی قضاء کے ادنی تقاضے بھی پورے نہیں کرتی یعنی دوسرے فریق کو بلاتی نہیں ہے ان کو پوری طرح موقع ہی نہیں دیتی حالانکہ اس کو اول تو اس طرح قاضی بنے کا بنیادی طور پر مجلس عاملہ کوحق ہی کوئی نہیں مجلس عاملہ قاضی بن کر قضاء کا کردار ادا کرنے لگ جاتی ہے اور وہ بھی ٹیڑھا اور لنگڑا۔کیونکہ انہیں قاضی