مشعل راہ جلد سوم — Page 328
مشعل راه جلد سوم 328 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اگر منتظمین جماعت اس برائی پر غور کرتے ہوئے پہلے اپنی حیثیت کی تعیین کریں کہ ہمارا منصب کیا ہے اور بے وجہ اس برائی سے ٹکرانے کی خاطر اپنے منصب اور اپنے دائرے سے الگ نہ ہوں تو کوئی تفاوت آپ کو نظر نہیں آئے گا اور اس کے نتیجہ میں کوئی فتور پیدا نہیں ہوگا۔مجلس عاملہ اور نظام جماعت مثلاً برائیاں کئی قسم کی ہیں بعض ایسی برائیاں ہیں نجی جھگڑے ہیں، مثلاً میاں بیوی کے جھگڑے ہیں، خاندانی جھگڑے ہیں، براہ راست ان کا مجلس عاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مجلس عاملہ نظام جماعت کے تابع مخصوص کاموں کے لئے مقرر کی جاتی ہے اس میں ایک سیکرٹری امور عامہ بھی ہے ایک سیکرٹری اصلاح و ارشاد بھی ہے۔ان کا تعلق ایسے جھگڑوں سے صرف اس حد تک ہے کہ وہ فریقین کو جا کر سمجھائیں اور ان کو یہ بتائیں کہ یہاں آپ کی غلطی ہے وہاں دوسرے کی غلطی ہے۔پیار اور محبت کے ساتھ ان کو سمجھا کر ان کی کمزوریوں کی طرف متوجہ کریں لیکن ان کا یہ کام ہرگز نہیں ہے کہ انفرادی حیثیت سے یا اجتماعی حیثیت سے قاضی بن جائیں۔قضاء کا الگ ایک نظام موجود ہے اور جتنے نجی جھگڑے ہیں وہ سارے اس نظام کا کام ہے کہ ان کو طے کروائے۔اصلاحی کوششیں جو صرف نصیحت کا رنگ رکھتی ہیں وہ ضرور ہونی چاہئیں اور نصیحت کرنا تصادم نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہر شخص کو نصیحت کے اوپر مامور فرما دیا ہے۔اس لئے یہ بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ کسی کو نصیحت کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اس سے متصادم ہورہے ہیں اس لئے اگر آپ کو کوئی نصیحت کرتا ہے تو آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ تم اس کو کہو کہ تم میرے معاملات میں کیوں دخل دیتے ہو۔جاؤ اپنے معاملہ میں اپنا معاملہ رکھو۔یہ حماقت ہے۔یہ جواب زندگی کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔جو آدمی نصیحت کرتا ہے وہ ٹکراتا نہیں ہے۔وہ ایک مشورہ دیتا ہے ایک بیرونی آئینہ دکھاتا ہے اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کو دوسرے مومن کا آئینہ قرار دیا ہے۔آئینہ اگر متصادم ہوگا تو ٹوٹ جائے گا لیکن آئینہ تو خاموشی سے صحیح صورت اور رنگ دکھا دیتا ہے اور اس کا پرو پیگنڈا نہیں کرتا، کسی اور کو کسی کے چہرے کا نقص نہیں بتاتا تو اس کا نام تصادم بہر حال نہیں ہے اس لئے نصیحت کرنا عہد یداران کا کام ہے اور جہاں امور عامہ کے سیکرٹری کو بعض معین اختیارات دیئے گئے ہیں وہاں ان اختیارات کو استعمال کرنا اس کا کام ہے لیکن نجی معاملات یا مالی اختلافات میں قاضی بن کر بیٹھ جانا اور فیصلوں کا پابند کرنے کی کوشش کرنا اور جو ان فیصلوں کی پابندی نہ کرے ان کے خلاف شکائتیں کرنا کہ ان کو