مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 28

28 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پُر خلوص حصہ لیا اور جس کی استعداد میں جو کچھ بھی تھا وہ اس نے بڑی خوشی اور بشاشت کے ساتھ پیش کیا اور جماعت کا یہ احسان سمجھا کہ اس نے اس خدمت کو قبول کیا۔دین کی خدمت کی یہی وہ روح ہے جو قبول ہوتی ہے۔اس روح کے سوا کوئی روح قبولیت کے لائق نہیں ہوتی۔چنانچہ اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انجینئر زایسوسی ایشن نے بہت ہی اعلیٰ اور پیاری روایات قائم کی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ روایات پھیلتی چلی جائیں گی اور دوام بھی اختیار کریں گی۔سبقت لے جانے کی کوشش کچھ اور پہلو ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کے پیش نظر رہنے چاہئیں۔ان میں سے ایک چیز انفرادی کوشش یعنی اس بات کی کوشش کہ میں اپنے فن کو خوب چمکاؤں گا اور اپنے دوسرے ساتھیوں پر خواہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم سبقت لے جاؤں گا۔یعنی اپنے فن کے دوسرے ساتھیوں سے آگے نکلنے کی کوشش کروں گا۔ایک یہ مقصد بھی تھا جس کو بار بارا جلاسوں میں پیش کیا جاتا رہا۔اس پہلو سے کوئی نمایاں کام سامنے نہیں آیا اور کوئی نمایاں نام سامنے نہیں آیا۔یعنی جد و جہد اس رنگ میں ہو کہ اپنے فن میں دوسرے ہمعصر ساتھیوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔یہ وہ چیز ہے جو ہماری جماعت کا امتیازی نشان ہونا چاہیے اور اس کی طرف میں خود بھی جہاں تک میرا بس چلا بار بار توجہ دلا تارہا اور حضرت خلیفة المسیح الثالث نے اپنے خطابات میں بھی احمدی انجینئروں سے جو توقع ظاہر فرمائی وہ اسی نوعیت کی تھی اس لئے اس پہلو سے متعلق میں چند باتیں پھر آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں ہماری دولت ہیں احمدی انجینئر کو ایک ایسی دولت حاصل ہے جو دنیا کے کسی اور انجینئر کو حاصل نہیں۔احمدی آرکیٹکٹ کو ایک ایسی دولت نصیب ہے جو دنیا کے اور کسی آرکیٹکٹ کو نصیب نہیں۔اس دولت میں سرفہرست حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعائیں ہیں۔آپ نے اپنے متبعین کے حق میں جود عائیں کیں اور جن نیک توقعات کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے خوشخبریاں پا کر آئندہ آنے والوں کے لئے خوشخبریاں دیں، وہ اس نوعیت کی ہیں کہ احمدی کسی بھی فن سے تعلق رکھتا ہو، وہ ان دعاؤں کے سہارے اپنے باقی ساتھیوں سے