مشعل راہ جلد سوم — Page 27
مشعل راه جلد سوم 27 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- احمدی آرکیٹکٹس اینڈ انجینئر زایسوسی ایشن کے ساتھ میرا جو تعلق ہے، وہ رپورٹ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ذاتی حیثیت سے ان معنوں میں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس ایسوسی ایشن کے آغاز ہی سے اس کے کاموں سے میرا تعلق پیدا کروا دیا تھا اور اس کو منظم کرنے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈالی تھی۔اس کے بعد جب یہ سوال پیش ہوا کہ اس کا سر پرست کون ہوگا تو حضور نے میرا ہی نام بطور سر پرست منظور فرمایا۔اس لئے مجھے یہ خوشی ہے کہ آپ سب کے ساتھ دوبارہ ملنے کا موقع مل رہا ہے۔قبل ازیں جب بھی میں نے اجلاسوں میں آپ کے ساتھ شرکت کی ، میں آپ سے مل کر اور آپس میں تبادلہ خیالات کے نتیجہ میں بہت ہی لطف اندوز ہوتا رہا۔آپ احمدیت کی ایک علمی شاخ کا سرمایہ ہیں کیونکہ احمدیت کی ایک علمی شاخ کا آپ سرمایہ ہیں۔آپ کا ذہن اگر زیادہ بیدار اور متحرک ہوگا اور ایسی خدمت سرانجام دینے کی کوشش کرے جو فن کی بھی خدمت ہو اور دین کی بھی۔ذات کی بھی خدمت ہو اور بحیثیت جماعت بھی کارآمد ثابت ہو تو زندگی کا ایک بہت بڑا مقصد آپ کو حاصل ہو جائے گا۔یہی وہ اغراض تھیں جن کے لئے ہم مل جل کر ایک دوسرے کے مشورہ کے ساتھ بات کو آگے بڑھاتے رہے۔بعض پہلوؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی خوشکن نتائج نکلے ہیں۔مثلاً ہمارے انجینئر ز اور آرکیٹکٹس میں جذبہ اور خلوص تو ماشاء اللہ پہلے بھی تھا لیکن کوئی ایسی تنظیم نہیں تھی جس کی بدولت وہ اپنے فن کو دین کی خدمت میں پیش کر سکتے۔چنانچہ اس تنظیم کی وساطت سے اب آپ کو یہ موقع ملا کہ جماعت میں جو کام بھی آپ کے فن سے تعلق رکھنے والے پیش آئے ان میں آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی