مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 288

مشعل راه جلد سوم 288 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مکمل نہیں ہوتی۔اس کو راہنمائی کے اصول بتائے جائیں۔اسے بتایا جائے اس پر جب اعتماد کیا جاتا ہے۔تو اس کو بتانا پڑے گا، اس کو اپنے اعتماد کی کن پہلوؤں سے خصوصیت کے ساتھ حفاظت کرنی چاہیے۔جب اس طرف آپ آئیں گے تو نظام جماعت کے بارہ میں بھی اس کو بتانا پڑے گا کہ ہم پر تمام دنیا کے احمدی اعتماد کرتے ہیں۔جب تک یہ اعتماد قائم رہے گا۔مالی نظام میں برکت رہے گی۔جب یہ اعتماد کھویا گیا تو مالی نظام ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح باقی نظام سے یہ توقعات کی جاتی ہیں اور ہم تمہیں صرف ایک احمدی کے طور پر نہیں بلکہ مجلس عاملہ کے رکن کے طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں تا کہ جب تم پر یہ ذمہ داریاں پڑیں تو تم اس اس طرح انہیں ادا کر و محض ایسے احمدی نہ بنو باہر بیٹھ کر مجلس عاملہ پر تبصرے کر رہے ہوں۔بلکہ ایسے احمدی بنائیں کہ جب لوگ تبصرہ کرنے کی کوشش کریں تو ان کے پاس مؤثر جواب ہوں۔پھر ہر پہلو سے انہیں آگاہ کریں ان کے حقوق کیا ہیں ، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں، خلافت کا نظام کیا ہے، انصار اللہ کا نظام اور خدام الاحمدیہ کا نظام کیا ہے۔ان کی ذیلی تنظیموں کا کام کیا ہے، ان سارے امور سے ہر احمدی کو واقف کرانا اور پھر جماعت کی تاریخ سے ان کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہے اور ایسے مؤثر کردار ادا کرنے والے احمدیوں کی زندگیوں کے حالات سے مطلع کرنا ضروری ہے جن کا کردار آج بھی زندہ ہے۔جب آپ اس کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ آپ کو مرتعش کر دیتا ہے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی زندگی کے واقعات ہیں انہوں نے احمدیت میں بہت مختصر زندگی گزاری لیکن ایسی عظیم زندگی تھی کہ ہمیشہ دنیا اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔اور تمنا کرے گی کہ کاش ہمارے سینکڑوں سال کے بدلہ وہ مختصر زندگی ہمیں نصیب ہو جاتی۔جب آپ ان کے کردار پر نظر ڈالتے ہیں ان کے واقعات سے نئے آنے والوں کو آگاہ کرتے ہیں تو آپ کو زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ آج بھی وہ کردار آ پکی باتوں سے زیادہ زندہ ہے، آج بھی اس میں اس بات کی اہلیت ہے کہ دلوں کو متحرک کر دے اور خون کو گرم کر دے اور انسانوں میں نئے حوصلے پیدا کرے اور ان کے سینوں میں نئے عزم بلند کرے۔ایسے لوگ جو حضرت بانی سلسلہ کے ساتھی تھے۔انہوں نے کیا کیا کارنامے انجام دیئے کس طرح دنیا میں قربانیاں پیش کیں، کس طرح دنیا کو تبدیل کیا، کس طرح قول اور فعل کے بچے ثابت ہوئے ، وہ صادق القول تھے اور صادق العمل تھے ان سب باتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے جب ان سب باتوں پر آپ نظر ڈالیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے لئے کئی سال کی محنت درکار ہے۔ساری دنیا کی زبانوں میں اس قسم کا لٹریچر تیار کرنا اور ایسے احمدی پیدا کرنا جو ساتھ ساتھ واقف ہوتے چلے جائیں اور