مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 284

284 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم امر واقعہ یہ ہے کہ جس قوم کو خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے چن لیا ہے اس کی اولیت کو کوئی چھین نہیں سکتا اور اس کی ضرورت کے احساس سے کوئی عقل مند ا نکار نہیں کرسکتا۔وہ اولین طور پر ہندوستان میں جو ایک خطہ پنجاب ہے ، اس سے تعلق رکھنے والی قوم ہے۔اور اس دائرے کو جب بڑھاتے ہیں تو ہندوستان بحیثیت مجموعی آج کل پاکستان بھی ہے اور ہندوستان بھی ہے۔یہ خطہ سرزمین جسے ہندو پاکستان کا برصغیر کہا جاتا ہے۔اس علاقہ کے لوگوں کو خدا نے اولین طور پر ، ان میں کوئی اصلاحی مادہ ہے، ان میں بعض مخفی خوبیاں ہیں جن کو خدا کی نظر نے پہچانا ہے۔اس لئے ان کو چنا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دنیا کی اصلاح کے لئے ان کے اندر مادہ ضرور موجود تھا اس علاقہ کے لوگ جو سو سال سے مسلسل قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور بڑی وفا کے ساتھ حق کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ یقینا خدا تعالیٰ کی نظر نے صحیح شناخت فرمائی۔بہر حال ساری دنیا میں سے اس علاقہ کے لوگوں کا دین پھیلانے کے لئے استعمال ہونا د نیا کے آئندہ نقشہ کا ایک لازمی حصہ ہے۔لازماً ہر ملک میں ابتداء میں اسی علاقہ کے لوگوں کو ( دعوت الی اللہ ) میں ایک مؤثر کردارادا کرنا ہو گا۔اس لئے جماعتوں کو اس پہلو سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ہمیں لازماً مجبوراً پاکستانی اور ہندوستانی احمدیوں کے کردار کو خصوصیات کے ساتھ پیش نظر رکھنا ہوگا کیونکہ خدا نے انہیں استعمال کرنے کے لئے چنا ہے۔اگر یہ کھوٹے پیسے بن گئے تو ہم انہیں استعمال نہیں کر سکیں گے اور اگر یہ اچھے پیسے بنے تو دین کی غیر معمولی خدمت دنیا میں کر سکتے ہیں۔آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے موجودہ نسلوں کو سنبھالو پھر دوسرا پہلوان کی اگلی نسلوں کو سنبھالنے کا ہے لیکن وہ پہلے پہلو کا بچہ ہی ہے۔جس طرح اگلی نسل موجودہ نسل کے بچے ہوتے ہیں اسی طرح موجودہ نسل کو آپ سنبھالیں اور صحیح خطوط پر چلائیں تو روحانی طور پر اگلی نسل لاز ما بچ جاتی ہے۔نقائص ڈھونڈنے کے لئے آپ دوسری نسل کی شکلوں کو نہ دیکھیں۔جب بھی کوئی نقص ہو تو پہلی نسل کی شکلوں کو دیکھیں۔وہاں سے ابتداء ہوتی ہے۔یاد رکھیں قرآن کریم نے ہمیں یہ نکتہ عطا فرمایا ہے کہ آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے موجودہ نسلوں کو سنبھالو۔فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّ َمتْ لِغَدٍ ( سورة الحشر : 19) اس کے وسیع مضمون میں ایک معنی یہ بھی ہے کہ اے آج کے بسنے والے (مومنو)! اے ایمان لانے والو! جن کو ہم مخاطب کر رہے ہیں۔اگلی نسلوں کی تربیت کے تم ذمہ دار ہو اس لئے تم پوچھے جاؤ گے کہ کل کیا پیچھے چھوڑ کر جانے والے ہو۔یہ سوال تم