مشعل راہ جلد سوم — Page 270
270 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم زندگیوں کی کایا پلٹ دے گا۔بہت زیادہ آپ کو لطف آئے گا یہاں رہنے کا بہ نسبت اس کے کہ آپ اشاروں سے باتیں کریں یا پاکستانی ڈھونڈیں گئیں مارنے کے لئے۔یہ وجہ ہے کہ ہمارے پاکستانی آپس میں بیٹھ جاتے ہیں گئیں مارنے کیلئے خصوصا پنجابی۔ایسی بیماری ہے ان کو کھٹے ہو کر ایک دوسرے سے پنجابی میں باتیں کرنے کی اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دوسری زبانیں سیکھنے کا شوق ہی نہیں۔زبان میں تلفظ کی اہمیت اور ایک بیماری یہ ہے کہ اگر کوئی سیکھے اور اس قوم کا تلفظ سیکھے تو سارے پنجابی ہنستے ہیں اس کے اوپر اگر غلط بولے پنجابی کی طرح تو کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے اور اگر شریفوں کی طرح اُن قوموں کی طرح بولے جن کی زبان ہے تو ہنستے ہیں کہ بڑا بیوقوف ہے کس طرح منہ ٹیڑھا کر رہا ہے۔یہ ساری جہالت کی باتیں ہیں۔ان جہالت کے قصوں کو بارڈر کے پر لی طرف چھوڑ آئیں اور اگر غلطی سے ساتھ لے آئے ہیں تو Export کر دیں۔ہمیں احمدیوں میں نہیں چاہئیں یہ باتیں۔بالغ نظر انسانوں کی طرح ان باتوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ جب زبان سیکھی جاتی ہے تو اسی طرح سیکھی جاتی ہے جس طرح اہل زبان سیکھتے ہیں جس طرح کسی قوم کے بچے اور اس کے بڑے بولتے ہیں۔اس کے بغیر آپ کی عزت اور قدر نہیں ہو سکتی۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے جامعہ احمدیہ میں تعلیم کے دوران کوئی بات شروع ہوئی تو کسی نے کسی کے اوپر اعتراض کیا کہ وہ دیکھو جی وہ انگریزی بولتا ہے اور منہ ٹیڑھا کر کر کے اور انگریز بنے کی کوشش کرتا ہے میں نے اس کو کہا کہ وہ غلط نہیں تم غلط ہو۔میں نے کہا کہ تمہیں اندازہ نہیں کہ زبان میں تلفظ کو کتنی بڑی اہمیت حاصل ہے۔تم عربی بولتے ہو تو وہ بھی پنجابی کی طرح جاپانی بولتے ہو وہ بھی پنجابی کی طرح۔ستیا ناس کر دیتے ہو دنیا کی زبانوں کا اور اتنی ہوش نہیں کہ تمہاری عزت تب ہوگی اگر تم صحیح طریق سے بولو گے۔چنانچہ میں نے اس کو مثال دی، عثمان چینی صاحب بھی وہیں تھے ہمارے ساتھ پڑھا کرتے تھے میں نے کہا کہ چینی صاحب کو دیکھ لو وہ بولتے ہیں تو وہ ایک فقرہ بھی اگر صحیح تلفظ سے بول جائیں تو تم کہتے ہو بڑی زبان آگئی ہے اور اگر وہ دس فقرے بھی بولیں چینی تلفظ میں تو آپ ہنستے رہتے ہیں کہ ان کو کچھ نہیں پتہ ابھی تک زبان نہیں آئی۔زبان آنا اور بات ہے اور زبان سے ایک اثر اور مقام پیدا کرنا ایک اور چیز ہے۔یونیورسٹی آف لندن میں مجھے یاد ہے کہ ایک ایسے فارسی کے ایم اے تھے جن کی وہاں مادری زبان یعنی لدھیانے وغیرہ کے پٹھانوں میں سے تھے وہ۔اس لئے ان کے خاندان میں فارسی بولی جاتی تھی پنجابی سٹائل