مشعل راہ جلد سوم — Page 269
مشعل راه جلد سوم 269 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ زبان میں خود اپنے دوست تک پہنچ سکیں۔کئی قسم کی باتیں کئی قسم کے سوال اس کے دل میں اٹھتے ہیں جوان کیسٹس میں ہوتے ہی نہیں جو آپ نے ان کو دی ہوتی ہیں۔یہ تو ناممکن ہے کہ ہر ذہن بالکل ایک طرح کا ہو۔ایک کیسٹ بنانے والے نے اپنے تصور سے بعض لوگوں کے خیالات کا اندازہ کر کے بعض جوابات دیئے ہوئے ہیں جبکہ ہر آدمی کے دل میں ضروری نہیں کہ وہی سوالات اٹھیں اُسی قسم کی الجھنیں ہوں بالکل مختلف قسم کی باتیں بھی آسکتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ آپ زبان دان ہوں اور زبان دانی میں بھی آپ کو عبور حاصل ہور نہ تھوڑی سی زبان سیکھ کر پھر وہی مسئلہ در پیش ہو گا کہ سننے والے کے خیالات اور مضمون کے ہیں اور آپ نے اور مضمون کی زبان سیکھی ہے آپ کا زبان کا دائرہ محدود ہے اس کا وسیع ہے بہت سی باتوں میں جا کر الجھن پیدا ہو جائے گی۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ راولپنڈی میں ایک چینی دوست تھے جو ریسٹورنٹ میں کام کرتے تھے۔ہمارے عثمان چینی صاحب جو ہمارے بڑے مخلص دوست ہیں۔پنڈی جانے سے پہلے میں نے اُن سے کہا کہ میں اس کو ذراPleasent Surprise دینا چاہتا ہوں آپ مجھے کوئی چھپیں تھیں فقرے یا کچھ زائد چینی زبان کے ایسے سکھا دیں میں خوب رٹ لوں گا اور میں جا کر اس سے چینی میں باتیں شروع کر دونگا اور وہی باتیں جو روزمرہ میں کام آتی ہیں وہ میں نے سوچ لیں میں اس کو جا کر کہوں گا آپ کا کیا حال ہے وہ یہ جواب دے گا پھر میں کہوں گا کھانے وانے کے لئے کیا ہے and so on خیر میں نے میرا خیال ہے کہ تمہیں کے قریب یا اس سے بھی زیادہ غالباً ستر فقرے تھے مختلف جو میں نے اس وقت یاد کر لئے اور جا کر میں نے اس سے پوچھا چینی زبان میں کہ کیا حال ہے تو اس نے فرفر چینی زبان بولنی شروع کر دی ایک لفظ بھی میرے پلے نہیں پڑا۔وہ سمجھا کہ اس نے بڑے سلجھے ہوئے انداز سے کہا ہے کہ کیا حال ہے ضرور چینی آتی ہوگی اس کو۔تو اس قسم کی Surprise ملیں گی آپ کو اگر آپ تھوڑی سی جرمن زبان سیکھ کے ( دعوت الی اللہ ) شروع کر دیں گے تو آگے سے وہ فرفر بولیں گے آپ کو کچھ پتہ نہیں لگے گا۔اس لئے اپنے تجربے سے نہ سہی میرے تجربے سے فائدہ اٹھا لیں۔زبان سیکھیں اور زبان پر عبور حاصل کریں۔بڑی سنجیدگی کے ساتھ سکولوں میں داخل ہونا پڑے تو سکولوں میں داخل ہوں اور فیصلہ یہ کریں کہ میں نے اللہ کی خاطر یہ کام کرنا ہے۔ویسے بھی زبان نے آپ کو یہاں فائدہ دینا ہے۔زبان نہ سیکھنے والا کسی ملک میں رہ کر جانوروں کی طرح رہتا ہے۔بیچارہ گونگے بہروں کی طرح رہتا ہے کہاں زبان سیکھے ہوئے کی زندگی کہاں نہ سیکھے ہوئے کی زندگی بہت نمایاں فرق ہے۔تو یہ زبان سیکھنا جو خدا کی خاطر ہو گا آپ کو دنیا کے بھی عظیم الشان فوائد دے جائے گا آپ کی