مشعل راہ جلد سوم — Page 16
مشعل راه جلد سوم 16 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ پالنے کے لئے اکثر زندگی جنگل میں گذارتا ہوں اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بھی موجود نہیں ہوتا۔میں تو با جماعت نماز کی ادائیگی سے محروم ہو جاؤں گا۔میرے لئے کیا حکم ہے؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے بھی کوئی مشکل نہیں۔جب بھی نماز کا وقت آیا کرے تم اذان دے دیا کرو۔اگر کوئی مسافر دور سے گزرتا ہوا تمہاری آواز سُن لے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈال دے گا اور وہ آکر تمہارے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے گا۔پھر فرمایا اگر کوئی مسافر بھی نہ ہو اور کوئی آواز نہ سُن رہا ہو تو خدا آسمان سے فرشتے اتارے گا جو تمہارے پیچھے نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور اس طرح تمہاری نماز باجماعت ہو جائے گی۔کیسا عظیم الشان نبی ہے۔کیسی عظیم الشان امت ہے اور ہمیشہ زندہ اور باقی رہنے والا کیسا عظیم الشان پیغام ہے۔ہر مشکل کا حل اسلام میں موجود ہے ہر مشکل کو رحمت میں بدلنے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عطا ہو گیا۔ہمارے لئے فکر کی کونسی بات ہے۔پس اگر احباب جماعت اپنے آپ کو ان ملکوں میں مجبور سمجھتے ہیں تو کیلے بھی باجماعت نماز پڑھ لیا کریں۔تکبیر کہا کریں اور باقاعدہ باجماعت نماز کی طرح نماز پڑھا کریں اور یقین رکھیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی بات ہرگز جھوٹی نہیں ہوسکتی۔خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور وہ آپ کے پیچھے نماز پڑھا کریں گے۔آپ متقیوں کے امام بنائے جائیں گے۔اگر آپ نماز کا حق ادا کرنا سیکھ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل خود بخود نازل ہونے لگیں گے اور اس کثرت سے نازل ہوں گے کہ اُن کو سمیٹنے کے لئے آپ کا پیمانہ چھوٹا رہ جائے گا۔خدا کے فضل آپ کے پیمانوں کے کناروں سے بہت نکلیں گے۔بیوی بچوں کو نماز کی تلقین کریں آخری بات اس سلسلہ میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے بیوی بچوں کو بھی نماز پڑھنے کی تلقین کیا کریں۔نماز قائم کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان خود نماز پڑھتا ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ لوگوں کو بھی نماز پڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔پس آپ اپنے ماحول میں روز مرہ کا یہ اسلوب بنالیں ، زندگی کا یہ دستور بنالیں کہ اپنے دوستوں کو بھی تلقین کیا کریں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی تلقین کیا کریں۔قرآن کریم میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کے متعلق آتا ہے۔