مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 15

15 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہونی چاہیے۔وہ آزاد مرد ہے۔خدا کے سوا اس کی گردن کسی کے ہاتھ میں نہیں۔یہی حقیقی آزادی ہے جو انسان کو ایمان کے نتیجہ میں نصیب ہوتی ہے۔اگر وہ ان چیزوں کی کوڑی بھی پرواہ نہیں کرے گا تو دنیا اس کے سامنے جھکے گی۔دنیا اس کی پہلے سے زیادہ عزت کرے گی۔دنیا میں ہمیشہ یہی دیکھا گیا ہے کہ خدا کی خاطر ذلتیں قبول کرنے والے دنیا میں کبھی ذلیل نہیں کئے گئے۔ان کی عزتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ اضافے ہوتے ہیں اور برکتیں ملتی ہیں۔پس اس جھوٹے خیال کو دل سے نکال دیں۔یہ مشرکانہ خیال ہے۔کسی احمدی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ عبادت کرتے ہوئے دنیا کی طرف نگاہ رکھے اور شرمانے لگے کہ وہ مجھے کیا سمجھیں گے۔نماز وقت پر اور باجماعت پڑھیں تیسری بات وقت پر نماز پڑھنے کے متعلق ہے۔اس بارہ میں میں پہلے کہہ چکا ہوں۔چوتھی بات نماز با جماعت کے متعلق ہے اس سلسلہ میں میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو یہ وہم ہے کہ جب تک آٹھ دس آدمی اکٹھے نہ ہو جائیں۔باجماعت نماز نہیں ہوسکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دین عطا ہوا وہ ایک ایسا کامل اور عظیم الشان دین ہے کہ اس کی راہ میں کسی صورت میں کسی شکل میں کوئی مشکل بھی حائل نہیں ہوتی چنانچہ جہاں تک مسجد کی ضرورت کا تعلق ہے آپ نے یہی فرمایا کہ اگر مسجد میٹر ہو تو ضرور مسجد تک پہنچو۔یہ تمہارا فرض ہے لیکن اگر مسجد مہیا نہیں تو آپ نے اپنی امت کو یہ عظیم الشان خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے ساری زمین میرے لئے مسجد بنادی ہے۔صرف آپ ہی وہ نبی ہیں جن کے لئے دنیا کی ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔کیونکہ آپ ساری دنیا کے لئے نبی بن کر تشریف لائے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ سہولت عطا فرمائی کہ کسی خاص عبادت گاہ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔تیرے غلاموں کو جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے تو وہیں نماز پڑھ لیں وہی جگہ اُن کے لئے مسجد بن جایا کرے گی۔پس اس سے یہ مشکل حل ہو گئی کہ (بیت الذکر ) تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے اور کوئی آدمی یہ عذر نہیں کر سکتا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا کہ ہم ( بیت الذکر ) پہنچ نہیں سکتے، مجبوریاں ہیں۔دوسرے جہاں تک ساتھیوں کا تعلق ہے۔یہ مسئلہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لئے حل فرما دیا ایک صحابی نے جب دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باجماعت نماز پر بہت زور دیتے ہیں تو اس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں تو ایک چرواہا ہوں، ایک مزدور ہوں ، لوگوں کے چند پیسوں پر بھیڑیں