مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 183

مشعل راه جلد سوم 183 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی خدام کو چاہئے کہ وہ اپنے حوصلے بلند کریں یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے وہ برکت پر برکت دیتا چلا جا رہا ہے۔اس لئے خدام کو چاہیے کہ وہ اپنے حوصلے بلند کریں۔اپنی امیدوں کو بلند کریں۔خدا تعالیٰ پر اپنے حسن ظن کو بلند کریں اور وسیع کریں پھر دیکھیں کہ اللہ کس طرح یہ ظرف بھی بھرتا چلا جائے گا اور ظرف بڑھاتا بھی چلا جائے گا کیونکہ ہمارا محسن خدا دیتا تو ظرف کے مطابق ہے لیکن اسی کو یہ طاقت بھی ہے کہ ظرف بھی ساتھ بڑھا دے۔چنانچہ آج میں نے خطبہ جمعہ میں جس آیت کی تلاوت کی تھی اس میں یہی وعدہ دیا گیا ہے إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ کہ تم میری رضا ڈھونڈو میں تمہیں رضا عطا کروں گا لیکن ساتھ ہی تمہارا ظرف بھی بڑھاتا چلا جاؤں گا۔وسعتیں پیدا کرتا چلا جاؤں گا تمہارے حوصلوں میں تاکہ میری زیادہ سے زیادہ رضا جذب کر سکو۔دوسرا پہلو جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ جیسا کہ میں نے آج خطبہ جمعہ میں کہا تھا نجی کے دورے کے مزید حالات بیان کرنے سے متعلق ہے لیکن جب میں نے اجتماع کا پروگرام دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ پہلے ہی خاصی دیر ہو چکی ہے۔پروگرام کے مطابق سوا چار بجے اس افتتاحی خطاب کو ختم ہونا چاہیے اور کھیلوں کا پروگرام شروع ہونا چاہیے تھا لیکن چونکہ پروگرام کچھ تاخیر سے شروع ہوا ہے اس لئے کچھ وقت تو میں زائد لے سکتا ہوں لیکن بہر حال خدام نے کھیلوں میں حصہ لینا ہے۔یہ بھی پروگرام کا حصہ ہے اس لئے اس حصے کو کلیۂ قربان نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے خوشخبریوں سے تعلق رکھنے والی ایک دو اہم باتیں بیان کرنے کے بعد میں انشاء اللہ افتتاحی دعا کروادوں گا پھر آپ اپنے پروگرام جاری رکھیں۔آخری دن کی تقریر میں چونکہ نسبتا زیادہ وقت مل جاتا ہے اس وقت میں اس دورے کے بقیہ امور آپ کے سامنے رکھوں گا۔سب سے پہلے تو ایک خوشخبری کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کا میں پہلے کراچی کی جماعت میں بھی ذکر کر چکا ہوں۔لیکن خدام کے اس وسیع اجتماع میں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ جماعت کو غیر معمولی خوشخبریاں عطا فرما رہا ہے۔اس دورے پر روانہ ہونے سے ایک دن پہلے سندھ کے ایک گاؤں کے ایک دوست کا خط ملا جس میں انہوں نے اپنی ایک رؤیا لکھی تھی کہ میں نے دیکھا کہ الیس الله بِكَافٍ عَبدَہ کی ایک انگوٹھی ہے جس کے حروف میں سے شعاعیں نکل رہی ہیں۔پھر وہ حروف باہر آ کر روشنی میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور فضا کو روشنی سے بھر دیتے ہیں۔اس وقت مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ہے۔چنانچہ اس خواب سے میں یہی سمجھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ