مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 182

مشعل راه جلد سوم اجتماعات میں شریک ہو نیوالے خدام 182 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اس کے بعداب میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کرتا ہوں۔پہلے بھی کر رہا تھا اب سورۃ فاتحہ کے دوران بھی خاص کر کیا اور اب پھر اس کا اظہار کرتا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ اجتماع بہت ہی کامیاب اور پر رونق نظر آ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے ہر پہلو سے غیر معمولی ترقی عطا فرمائی ہے۔گزشتہ سال جو اضافے ہوئے تھے خدام کی تعداد میں ، آپ کی مجالس کی تعداد میں، اور انصار کی حاضری اور مقامی دوستوں کی حاضری میں، اس کی وجہ سے دل میں ایک خیال سا پیدا ہوا تھا کہ اب آئندہ سال تو شاید تھوڑی سی گنجائش ہو لیکن میرے سامنے جو اعداد وشمار رکھے گئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حیرت انگیز ہیں۔چنانچہ پہلے دن ہی ہر پہلو کے لحاظ سے غیر معمولی اضافہ نظر آ رہا ہے۔۱۹۸۲ء میں پہلے دن خدام کی حاضری ۵۴۳۴ تھی اس کے مقابل پر آج ۱۹۸۳ء میں ۷۲۸۲ ہے اور ۱۸۴۸ خدام کا اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ سال ۴۱۸ مجالس پہلے روز شامل ہوئیں تھیں امسال خدا کے فضل سے اس وقت تک ۶۱۵ مجالس شامل ہو چکی ہیں۔پچھلے سال زائرین کی حاضری پہلے دن افتتاح کے وقت ۲۰۰۰ تھی اور آج خدا کے فضل سے۲۵۸۰ ہے۔خدا کا یہ وعدہ ہے کہ میں اس جماعت کو بڑھاؤں گا اسی طرح سائیکل سوار بھی مختلف علاقوں سے آئے ہیں اور بعض بڑی ہمت کر کے، پتھر کھا کے بھی پہنچے ہیں۔انکی تعداد گذشتہ سال ۱۶۹ اتھی اس سال ۱۳۱۶ صرف خدام کی تعداد ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بے انتہا احسان ہے کہ وہ ہر پہلو سے جماعت کو ترقی پر ترقی دیتا چلا جا رہا ہے۔خدا کا یہ وعدہ تھا کہ میں اس جماعت کو بڑھاؤں گا چنانچہ ہم ہر روز بڑی شان کے ساتھ یہ پورا ہوتا دیکھتے ہیں۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے یہ پودا لگایا ہے اور اس کو پر روش دینا، اور اسے بڑھانا، اور اسے برکت دینا، یہ میرا کام ہے۔پس یہ وعدہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ کیا گیا تھا یہ پوری شان کے ساتھ جماعت کی تمام تاریخ میں ہمیشہ پورا ہوتا نظر آتا ہے۔پنڈال پہلے سے بہت بڑا بنایا گیا تھا اس خیال سے کہ جگہ تھوڑی ہو جاتی ہے اور باہر کھڑے ہونے والوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اب آپ دیکھ لیں کہ باہر کھڑے ہونے والے پھر بھی باہر کھڑے ہیں اور پنڈال بھرا ہوا ہے۔