مشعل راہ جلد سوم — Page 130
130 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا ( سورۃ مریم : ۵۶ ) اس کی یہ ادا ئیں اللہ کو بہت پسند تھیں کہ وہ ہمیشہ با قاعدگی کے ساتھ اپنے اہل وعیال کو نماز کا حکم دیتا تھا۔اس میں یہ نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نمازوں کا قیام اور ان کا استحکام گھروں سے شروع ہوتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ب وأمر اهلك بالصلوة واصْطَبِرْ عَلَيْهَا، (طه (۱۳۳) کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو بھی اپنے اہل کو نماز کا حکم دیا کر واضطَبِر عَلَيْهَا لیکن یہ ایسی بات نہیں ہے کہ ایک دفعہ کہنے سے اس پر پوری طرح عمل شروع ہو جائے گھروں میں اگلی نسلوں کو نماز کی عادت ڈالنی ہو تو مستقل مزاجی کے ساتھ تلقین کی عادت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ایک دو دفعہ یا ایک دو دن یا ایک دو ماہ یا چند سالوں کا کام نہیں۔واضطبر عليها كا مطلب یہ ہے کہ جب تک تو زندہ رہے، جب تک تجھ میں طاقت ہے اس عادت پر صبر سے استقامت اختیار کر لے۔اس عادت کو کبھی چھوڑنا نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ( رفقاء) میں ہم نے یہ چیز دیکھی کہ وہ اپنے اہل وعیال کو نمازوں کے متعلق تلقین کیا کرتے تھے اور کبھی کسی حالت میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے نماز کی تلقین کرنی چھوڑ دی ہو۔میرے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ جو اپنے بچوں کو نماز کے لیے اپنے ساتھ لے جاتے تھے وہ با قاعدگی کے ساتھ ایسا کرتے اور کبھی بھی اس طرف سے غافل نہیں ہوئے۔نماز پڑھنے والوں کے بھی اور نماز پڑھانے والوں کے بھی بڑے بڑے پیارے نظارے نظر آیا کرتے تھے۔چنانچہ جن ماں باپ نے اس نصیحت پر عمل کیا اور اپنے گھروں میں نمازوں کی تلقین کو دوام کے ساتھ اختیار کیا۔یوں لگتا تھا کہ وہ گھر نمازیوں کی فیکٹریاں بن گئے ہیں اور انکی نسلوں میں آج بھی بکثرت نمازی نظر آتے ہیں۔جو دوسرے خاندانوں کی نسبت زیادہ نماز پڑھنے والے ہیں۔چنانچہ وہ ( رفقاء) جنہوں نے اس عادت میں نمایاں امتیاز حاصل کیا ان کی اولا د نسلاً بعد نسل نمازی بنتی چلی گئی۔لیکن بعض دفعہ ایسا ہوا کہ ( رفقاء) کے اندر تو خد اتعالیٰ نے نماز کی حفاظت کا جذبہ پیدا کیا تھا مگر بیویاں عمل کے لحاظ سے کمزور تھیں۔یا جس جگہ بچوں کی شادیاں ہوئیں وہاں کے بے نمازوں کے خون ان سے مل گئے اور وہ پانی گدلا ہو گیا۔تو ایسی مثالیں بھی ملاتی ہیں کہ باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے خاندانوں میں بے نماز شامل ہو گئے اور انہوں نے رفتہ رفتہ اس سارے پانی کو گدلا کرنا شروع کر دیا۔لیکن جہاں ان کی شادیاں نمازیوں میں ہوئیں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ایسی نسل ملی ہے جو نماز پر ہمیشہ قائم بھی رہتی ہے اور مداومت میں قرآنی الفاظ هُمْ عَلى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ (المعارج:۲۴) کا نقشہ پیش کرتی ہے۔اسی طرح بعض گھروں میں